یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 40 of 137

یادوں کے نقوش — Page 40

ہیں۔یہ ارشاد حضور کی ساری زندگی کی عملی تفسیر تھا۔53 احباب جماعت کے علاوہ حضور کے ساتھ جس غیر از جماعت دوست کا ایک دفعه تعلق پیدا ہو جاتا تو حضور قطع نظر اس سے کہ وہ دوست امیر ہے یا کوئی غریب ترین دوست ہے۔ہمیشہ اس تعلق کو نبھاتے اور اس دوستی کی لاج رکھتے۔آپ کی دوستی نبھانے کی بے شمار مثالیں ہیں۔جب بھی کبھی کسی دوست اور تعلق دار کی امداد کا موقعہ میسر آیا تو آپ نے بڑی بشاشت اور خوشی سے تعلق پروری کا ثبوت فراہم کیا۔1962ء میں جب ربوہ میں ایک آزاد گروپ کی تشکیل دی گئی تو اس گروپ کے ایک سرگرم رکن ملک محمد ممتاز خان صاحب نسو آنہ بھی تھے۔گروپ کے فیصلہ کی تعمیل میں ملک صاحب موصوف نے صوبائی اسمبلی کے انتخاب کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا۔حالانکہ یہ بات بالکل واضح تھی کہ وہ جس شخصیت کے مقابلہ میں انتخاب لڑنے کے لئے میدان میں اترے تھے اس کے مقابلہ میں کامیابی کی کوئی امید نہ تھی وجہ یہ تھی کہ وہ خاندان عرصہ دراز سے علاقہ میں سیاسی اور سماجی طور پر با اثر تھا اور خصوصاً اقتصادی لحاظ سے نہایت مضبوط تھا۔لیکن محض گروپ کے فیصلہ کا احترام کرتے ہوئے ملک ممتاز نسوآنہ نے انتخاب میں حصہ لیا اور حسب توقع نا کام بھی رہے۔1977ء میں ملک ممتاز نسوآنہ صاحب دوبارہ صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے خواہشمند تھے۔وہ اس سلسلہ میں حضور سے ملاقات کر کے مشورہ اور اعانت کے طلب گار ہوئے۔حضور نے ملک صاحب کے بارے میں فرمایا کہ ملک صاحب کی امداد ہم نے ضرور کرنی ہے۔اس لئے کہ انہوں نے 1962ء میں محض آزاد گروپ کے کہنے پر انتخاب لڑا تھا۔اس وقت انہوں نے گروپ کی خاطر قربانی دی تھی۔اب ہمارا فرض ہے کہ ان کی اس قربانی کا بدلہ چکایا جائے۔چنانچہ حضور نے ملک صاحب کی بھر پور امداد کی۔جس کی وجہ سے انہوں نے بفضلہ تعالیٰ صوبائی اسمبلی کا انتخاب جیت لیا “ 54 حالانکہ ان کے مد مقابل امید وار بھی نیک شہرت رکھنے والے اور جماعت احمدیہ کے مخلص دوستوں میں شمار ہوتے تھے۔ایک مشورہ۔ایک پیشگوئی حضور کو اللہ تعالیٰ نے جہاں بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا ان میں حضور خوبی بھی منفر داہمیت کی حامل تھی کہ حضور کا مشورہ ہمیشہ صائب ہوتا تھا۔جب بھی احمدی یا غیر احمدی دوست مشورہ طلب کرتے تو حضور ان کو جو صیح اور واضح مشورہ دیتے اس کی اصابت کی تصدیق آنے والے واقعات و حالات کر دیتے۔یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے آپ کا ہاتھ آنے والے وقت کی نبض پر ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا حضور پر خاص فضل واحسان تھا۔ایک دفعہ تو آپ نے ایک ایسا مشورہ دیا جو پیشگوئی بن گیا جوئی بار پوری ہو چکی ہے۔1977ء میں فوجی حکومت نے انتخابات کروانے کا اعلان کیا تو حضور کی خدمت میں دیرینہ تعلق رکھنے والے ایک غیر از جماعت دوست قومی اسمبلی کے انتخاب میں حصہ لینے کے لئے مشورہ کے لئے حاضر ہوئے اس ملاقات میں خاکسار بھی حاضر تھا۔ابتدائی خیریت دریافت کرنے کے بعد موصوف نے انتہائی احترام سے عرض کیا کہ حضور میں مشورے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔میں نے حج کے لئے درخواست دی ہوئی ہے۔اور ساتھ ہی انتخابات بھی سر پر ہیں۔پارٹی کا فیصلہ اور اصرار ہے کہ میں قومی اسمبلی کا انتخاب لڑوں۔اس سلسلہ میں مجھے مشورہ دیں کہ میں کیا کروں۔اس پر حضور نے بلا توقف فرمایا آپ حج پر تشریف لے جائیں۔انتخاب کے بارہ میں بالکل نہ سوچیں۔مزید حضور نے فرمایا کہ حالات بتارہے ہیں کہ انتخابات نہیں ہوں گے۔آپ تسلی رکھیں۔جس کی حضور نے اس وقت کئی وجوہات بھی بیان