یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 38 of 137

یادوں کے نقوش — Page 38

“ 49 “ 50 50 آپ کے ساتھ جو اصحاب تشریف لائے ہوئے تھے ان میں سے جب کوئی پیچھے سے کتاب یا نوٹ دینے کی کوشش کرتا تو آپ اشارہ کر کے فرماتے کہ رہنے دیں اور خود ہی نہایت تشفی سے تسلی بخش طریق پر زبانی اور فی البدیہ جواب دیتے چلے جاتے آپ کے جوابات اور نورانی شخصیت سے ممبران اسمبلی بے حد متاثر ہوئے۔بھروانہ صاحب نے فرمایا کہ آپ کی مقناطیسی شخصیت اور نورانی چہرہ سے ممبران اسمبلی بے حد متاثر ہوتے جارہے تھے۔آپ جب آتے سڑکوں پر یوں محسوس ہوتا کہ کوئی وائسرائے تشریف لا رہے ہیں۔اور جب اسمبلی ہال میں داخل ہوتے دونوں ہاتھ اٹھا کر بآواز بلند السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہتے تو ممبران میں بعض بے ساختہ کھڑے ہو جاتے۔آپ کے نورانی چہرے اور ٹھوس دلائل سے مخالف ممبران سخت پریشان ہوتے گئے۔بھروانہ صاحب نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ بعض ممبران آپ کی شخصیت اور دلائل سننے کے بعد جماعت احمدیہ کے حق میں مائل ہوتے جارہے تھے۔بھروانہ صاحب کی باتوں کی دیگر موجود ممبران توثیق کرتے رہے۔عدل وانصاف کی نادر مثال یہ امر تسلیم شدہ ہے کہ دنیا میں اختلافات کا بنیادی سبب عدل اور انصاف کا فقدان ہے۔اگر عدل قائم ہو جائے تو یہ دنیا امن آشتی اور پیارو محبت کا گہوارہ بن جائے۔میرے پیارے آقا حضرت خلیفہ اسیح الثالث ہر معاملہ میں عدل و انصاف کو قائم رکھتے تھے۔اس کا ایک نادر واقعہ ایک مثالی اور یاد گار لمحہ میری یادوں میں محفوظ ہے۔ایک مفلس لیکن مخلص احمدی بھائی جو خاکسار کے عزیز تھے، کے گھر معمولی سی چوری ہوگئی جس کی تلاش دیہاتی رواج کے مطابق جاری تھی۔ایک دوست نے چور کو چوری شدہ چیز سمیت دیکھ لیا گویا رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔انہوں نے ہمیں اطلاع دی۔پتہ چلا کہ وہ چور ہمارے ایک معزز اور انتہائی صاحب حیثیت اور با اثر احمدی بھائی کا ملازم ہے۔ہم احمد نگر کے چار پانچ معززین جن میں مکرم چوہدری عبدالرحمن صاحب کونسلر بھی شامل تھے اس احمدی بھائی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ کا ملازم (جو غیر از جماعت تھا) ہمارا چور ہے۔مہربانی فرما کر ہماری حق رسی فرمائیں۔وہ صاحب ہماری بات ماننے کے لئے ایک لمحہ کے لئے بھی تیار نہ ہوئے کہ ان کا ملازم چوری کر سکتا ہے۔ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں لیکن ناکامی ہوئی آخر نظارت امور عامہ سے رجوع کیا۔ان صاحب نے بدقسمتی سے امور عامہ سے بھی بے رخی برتی اور عدم تعاون کیا۔اس پر نظارت نے پولیس کارروائی کا مشورہ دیا جس کی تعمیل میں پولیس چوکی میں درخواست دی گئی۔وہاں بھی ان صاحب نے اپنے ملازم کو مکمل تحفظ دینا شروع کیا۔اس پر معاملہ امور عامہ کی طرف سے حضور کے علم میں لایا گیا۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ متعلقہ مسل اور فریقین کو مورخہ 3 اگست 1970ء کو ساتھ لے کر حاضر ہوں۔حسب ارشاد فریقین کے علاوہ محترم چوہدری عبدالعزیز صاحب بھامبڑی محتسب بھی مسل لے کر حاضر ہو گئے۔حضور نے مسل ملا حظہ فرمائی۔فریقین کا موقف سنا اور پھر دوسرے فریق کو جو مجھ ناچیز کے مقابلہ میں نہایت بااثر شخصیت تھے مخاطب ہو کر فرمایا ، آپ دولت کے بل بوتے پر غریب احمدی کے انصاف میں حائل ہیں۔پولیس کے پاس بھی گئے ہیں انہوں نے ڈر کے مارے انکار کر دیا تو حضور نے محتسب صاحب سے رپورٹ طلب فرمائی انہوں نے بتایا کہ پولیس میں گئے ہیں اور دباؤ بھی ڈلوایا ہے۔اس پر حضور نے مزید سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا۔حضور کے چہرے پر ناراضگی کے آثار دیکھے تو وہ صاحب جو اتنے دنوں سے اڑے ہوئے تھے یکا یک معذرت اور معافی پر اتر آئے۔میں ان صاحب کے اخلاص