یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 37 of 137

یادوں کے نقوش — Page 37

“ 47 کے بارے میں اپنی وسیع معلومات سے نوازا تو وہ حیران ہو کر رہ گئے کہ ایک خالص دینی رہنما ہونے کے باوجود آپ کو ان موضوعات پر غیر معمولی عبور حاصل ہے۔ان صاحبان کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے بارے میں دریافت فرماتے۔مہر محمد اسماعیل صاحب نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ لالیاں سے احمدی گھرانوں کو پولیس نے ڈرا دھمکا کر ربوہ پہنچا دیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے لالیاں کے لوگ شر پسند نہیں ہیں اور وہاں حالات ٹھیک ہیں اور جب تک ہم زندہ ہیں لالیاں میں انشاء اللہ کسی احمدی پر زیادتی نہیں ہوگی۔آخر میں مہر صاحب موصوف نے عرض کیا کہ آپ کے نزدیک یہ کشیدگی کب تک جاری رہے گی۔حضور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ زیادہ سے زیادہ چار پانچ ماہ تک اور چلے گی۔اس خوشگوار ملاقات کے اختتام بر جب ہم باہر نکلے تو مہر محمد اسماعیل لالی جو اس علاقہ کے نہایت معروف ، بااثر اور اہم سیاسی و سماجی شخصیت تھے، وہ جب اوپر کی منزل سے نیچے آنے کے لئے سیڑھیاں اتر رہے تھے تو اوپر سے نیچے آنے تک ایک ہی فقرہ دوہراتے رہے:۔66 ” بڑا مرد ہے، بڑا مرد ہے ، بڑا مرد ہے۔یعنی بہت بہادر اور جرات مند شخص ہے۔بہت ہی بہادر شخص ہے۔یعنی باوجود اس کے کہ سارے ملک میں جماعت پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور آپ کو اپنی جماعت سے بے پناہ محبت بھی ہے۔لیکن چہرہ پر رائی بھر بھی پریشانی یا گھبراہٹ کے آثار نہیں خداداری چه غم داری۔محترم مہر حبیب سلطان صاحب جو معروف زمیندار اور سماجی حیثیت کے باعث علاقہ بھر میں اہم مقام رکھتے ہیں۔وہ بھی اپنے خسر محترم کی تائید کر رہے تھے۔یہ دونوں احباب حضور کی اولوالعزمی ، جرأت اور توکل علی اللہ سے بے حد متاثر ہوئے۔جس کا ذکر وہ تا دم واپسیں کرتے رہے۔آخر میں خاص بات یہ کہ حضور کی “ 48 اجازت سے مہر محمد اسماعیل صاحب نے محترم مولوی عبدالعزیز صاحب بھا مبری کے تعاون سے ربوہ میں لائے گئے لالیاں کے احمدی احباب سے رابطہ کیا اور راتوں رات ان کو اپنے ٹریکٹر ٹرالیوں میں مع سامان واپس لالیاں لے گئے۔روزنامه الفضل 26 ستمبر 2001ء) قومی اسمبلی میں حضور کے خطاب پر ایک ایم این اے کے تاثرات 1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں حضرت خلیفہ امسیح الثالث تشریف لے گئے اور کئی دن تک مخالف علماء کے سوالوں کے جواب عطا فرماتے رہے۔ابتداء میں حضور نے ایک معرکتہ الآراء خطاب فرمایا اور اس کے بعد دیگر کارروائی ہوئی۔قومی اسمبلی کی کارروائی کے بارے میں حضور ہمیشہ فرماتے تھے کہ چونکہ وہ صیغہ راز میں ہے اس لئے اس سلسلہ میں کچھ کہنا مناسب نہیں۔حضور نے مجھے 3 ستمبر 1974ء کو ایک کام کے سلسلے میں اسلام آباد جانے کا ارشاد فرمایا۔خاکسار حسب حکم اسلام آباد گیا وہاں جا کر خیال آیا کہ چلو ایم این اے ہوسٹل میں ممبران قومی اسمبلی سے مل کر اسمبلی کی کارروائی کے بارہ میں ان کے تاثرات کا جائزہ لیا جائے۔چنانچہ خاکسار جھنگ کے ایم این اے مہر غلام حیدر بھروانہ سے ملا۔ان کے پاس اس وقت بعض اور ایم این اے اور سینیٹرز وغیرہ تشریف فرما تھے۔دوران ملاقات بھروانہ صاحب نے از خود اسمبلی میں حضور کے خطاب کے بارے میں اپنے تاثرات یوں بیان فرمائے۔آپ نے اسمبلی میں جس طرح خطاب فرمایا ہے یہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں تھی۔بھروانہ صاحب کہنے لگے کہ کتنی عجیب بات ہے کہ سوال کرنے والے تو تیاری کرنے کے بعد سوالات کرتے تھے لیکن جواب دینے والی شخصیت موقع پر ہی جواب دے رہی تھی۔بھروانہ صاحب مزید کہنے لگے کہ آپ جب جواب دیتے تھے تو