یادوں کے نقوش — Page 36
45 “ 46 نہ معلوم کس طرح حضور کو اس کا علم ہو گیا۔آپ نے ملاقاتیں روک دیں اور اس ساده، ناخواندہ لیکن انتہائی مخلص اور فدائی احمدی کو نہ صرف شرف ملاقات بخشا بلکہ اس کو گلے سے لگایا اور اس کے ساتھ آئے ہوئے بچوں کو تحفوں سے نوازا اور اس طرح سادہ اور مخلص احمدی کی دلداری کی قابل قدر مثال قائم فرما دی۔سوہنا پیر ایک مرتبہ مہر غلام حیدر بھروانہ صاحب سابق ایم این اے اپنے دو دوستوں (مہر احمد یار صاحب سیال ممبر ڈسٹرکٹ کونسل اور ایک حافظ قرآن اور صاحب علم دوست ) بشمول خاکسار حضور سے شرف ملاقات کے لئے حاضر ہوئے۔حضور بھروانہ صاحب موصوف سے ہمیشہ شفقت و محبت سے پیش آتے تھے۔ملاقات کے دوران حضور نے فرمایا کھانے کا وقت ہے کھانا کھا کر جائیں۔حضور کے ارشاد کی تعمیل میں ہم سب نے حضور کے ہمراہ کھانا کھایا۔حضور سے ملاقات کے بعد جب باہر آئے تو بھروانہ صاحب کے ساتھ آنے والے حافظ قرآن دوست نے جو پڑھے لکھے بھی تھے بے ساختہ اور بے اختیار پنجابی میں یہ الفاظ کہے: کوڑے نیچے واعلم رب کول اے پر میں ایڈا سوہنا پیر کدی نہیں دیکھیا اے! بڑا سوہنا اے یعنی حضور کے بارے میں اس نے کہا کہ یہ بچے ہیں یا جھوٹے ہیں اس کا علم تو خدا کے پاس ہے لیکن اتنا خوبصورت پیر میں نے کبھی نہیں دیکھا۔پھر کہنے لگے، بڑا سوہنا اے، بڑا سوہنا اے“ یعنی آپ بے حد خوبصورت ہیں۔بہت خوبصورت ہیں۔بڑا مرد ہے اگست 1974ء کے ہنگامہ خیز دنوں کی بات ہے کہ لالیاں شہر میں احمدی دوستوں کو پولیس نے محض اپنی ذمہ داری سنبھالنے سے بچنے کے لئے اور فی الحقیقت جماعت کو تنگ کرنے کے لئے ربوہ پہنچا دیا۔اس بات کا علم جب مکرم مہر حبہ سلطان صاحب لالی اور مکرم مہر محمد اسماعیل صاحب لالی کو ہوا تو یہ دونوں احباب خاکسار سے ملے اور حضور سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی خاکسار نے عرض کیا کہ ملاقات کی درخواست کر کے دیکھتا ہوں۔وجہ یہ تھی کہ ان دنوں حضور بے حد مصروف تھے۔خاکسار نے حضور سے عرض کی تو حضور نے ازراہ شفقت باوجود انتہائی مصروفیات کے شرف ملاقات سے نوازا۔جماعت پر سختی اور تنگی کے شدید حالات تھے ہر طرف احمدیوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا تھا۔کئی احمدی راہ مولا میں قربان ہو چکے تھے۔بے شمار احمدیوں کے گھر اور مال و متاع لوٹے جاچکے تھے۔ہراحمدی دکھی اور پریشان تھا۔ان حالات میں معزز دوستوں کا تاثر ملاقات سے قبل کچھ اور ہی تھا۔لیکن حضور کے چہرہ کی مسکراہٹ اور کا چمک دمک سے یہ احباب حیران ہو کر رہ گئے۔اور حضور کی شخصیت سے بے حد متاثر ہوئے۔حضور سے ملاقات کے دوران مہر صاحبان نے بار بار موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کیا اور اپنی اخلاقی ہمدردی کا اظہار کرتے رہے۔مہر محمد اسماعیل صاحب جب حالات کی خرابی کا ذکر کرتے ہوئے کسی بات کے متعلق پوچھتے تو حضور مختصر اور تسلی بخش جواب دے کر ان کے مزاج کے مطابق گفتگو فرماتے ، مثلاً چونکہ علاقہ بھر کے مثالی کاشت کار ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین گھوڑے رکھتے تھے ان سے حضور گھوڑوں اور فصلوں کے بارے میں استفسارات فرماتے اور اچھے گھوڑوں