یادوں کے نقوش — Page 35
43 “ 44 نیچے اترے اور قالین پر بیٹھ گئے۔اور کہنے لگے میں آپ کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا۔حضور مجھے یہیں بیٹھنے کی اجازت دیں۔ان کے اصرار پر حضور خاموش ہو گئے۔معزز مہمان نے بڑے ادب سے محتاط انداز میں عرض کیا کہ میرا جواں سال بیٹا قریبی شہر میں بیمار ہوا اور لاہور میں فوت ہو گیا۔جس کے باعث ان دونوں شہروں میں میں اپنے بچے تعلیم کے سلسلہ میں نہیں رکھنا چاہتا۔انہوں نے کہا کہ اس پریشانی کے عالم میں میں نے اللہ کے حضور دعا کی کہ خدایا میری رہنمائی فرما اور تسکین کے اسباب پیدا کر۔چنانچہ دعا کے بعد ایک رات خواب میں میرے والد مرحوم تشریف لائے اور مجھے فرمایا کہ پریشان کیوں ہوتے ہو۔حضرت صاحب سے جا کر ملو صبح جب میری آنکھ کھلی تو میں پریشان ہوا کہ کون سے حضرت صاحب کے پاس حاضر ہوں۔آج کل تو حضرت کا لفظ عام مولوی ، چھوٹے بڑے وغیرہ سب کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔اس پریشانی میں دوسری رات پھر خواب میں دیکھتا ہوں کہ والد صاحب تشریف لائے ہیں اور ناراضگی میں فرمایا حضرت صاحب سے ملو اور بچے ربوہ داخل کراؤ۔اتنا کہہ کر معزز مہمان پھر شدت غم سے مغلوب ہو گئے۔قدرے سنبھلنے پر فرمایا حضور میرے سکون کیلئے دعا کریں اور مجھے جس قدر جلدی ہور بوہ میں رہائش کی اجازت دے دیں۔حضور نے نہایت محبت اور شفقت سے فرمایا فکر نہ کریں۔اللہ تعالیٰ پر تو کل رکھیں صبر سے کام لیں۔ربوہ میں آپ بخوشی بچے داخل کرا ئیں۔انشاء اللہ مکان کا انتظام بھی کرا دیا جائے گا۔حضور سے ملاقات کے بعد اور حضور کے ارشادات سننے کے بعد ان کی پریشانی سکینت میں بدل گئی۔دوسرے دن وہ دفتر امور عامہ تشریف لائے اور درخواست کی کہ میں نے ربوہ میں رہائش رکھ کر بچوں کو تعلیم دلوانی ہے تا حال مجھے کوئی موزوں مکان نہیں مل سکا اس سلسلے میں میری مدد کی جائے۔اگر مکان نہ مل سکے تو مجھے ربوہ میں خیمہ لگانے کی اجازت مرحمت فرما دیں۔تاہم بعد میں دفتر کے تعاون سے انہیں دارالصدر غربی میں مناسب مکان مل گیا۔چنانچہ انہوں نے مع فیملی ربوہ میں رہائش اختیار کرلی۔ایک دن میں انہیں ملنے گیا تو انہوں نے یہ واقعہ سنایا کہ ایک روز ہم اپنی بیٹی کو کالج لانے کے لئے کار نہ بھجوا سکے۔میری بیٹی چھٹی ہونے پر گھر میں روتی ہوئی اور پریشانی کے عالم میں داخل ہوئی۔جس پر ہم سب پریشان ہو گئے۔اس سے وجہ دریافت کی تو اس نے بتایا کہ میں جب پیدل آرہی تھی تو راستہ سنسان تھا کوئی فرد نظر نہ آیا میں سنسان سڑک پر ڈرتی ہوئی گھر پہنچی ہوں۔وہ کہنے لگے کہ بیٹی کو تو میں نے تسلی دلائی مگر بیٹی کی اس شکایت سے میں بے حد مطمئن اور خوش ہوا۔کہ دیگر شہروں میں تو یہ شکایت ہوتی ہے کہ چھٹی کے بعد آوارہ لڑکے لڑکیوں کے کالج کے باہر منڈلاتے پھرتے ہیں اور آوازے کستے اور گھٹیا حرکات کرتے ہیں جب کہ ربوہ میں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔اس کے بعد ہم ربوہ کے ماحول سے مزید مطمئن ہو گئے۔دلداری کا اہم واقعہ مکرم مہر محمد یار سپرا صاحب مرحوم ربوہ کے قریب کے ایک گاؤں ٹھٹھہ چندو کے ایک چھوٹے سے احمدی زمیندار تھے انتہائی مخلص وجود تھے۔ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے فوراًبعد حضور کی ملاقات کے لئے مع بچگان حاضر ہوئے۔پرائیویٹ سیکرٹری نے ملاقات کرانے سے معذرت کر دی۔ان کا موقف یہ تھا کہ جلسہ کے ایام ہیں۔جو احباب دور دراز کراچی وغیرہ سے سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں آئے ہیں اس وقت ملاقات کے منتظر ہیں۔انہیں نظر انداز کر کے آپ کی ملاقات کس طرح کروا دی جائے؟ آپ قریب کے رہنے والے ہیں چند دنوں کے بعد آجائیں۔