یادوں کے نقوش — Page 34
41 “ 42 کیا گیا کہ نمازوں کی ادائیگی کے بعد جب حضور بیت الذکر سے واپس تشریف لے جاتے تو خاکسار کے سلام کرنے پر حضور از راہ شفقت بلا لیتے۔راستہ میں ہی امر متعلقہ میں فوری رہنمائی فرما دیا کرتے۔اگر کوئی اہم معاملہ ہوتا تو حضور اندر ساتھ لے جاتے اور بیٹھ کر تفصیل سے ہدایات ارشاد فرماتے۔ربوہ کا بابرکت ماحول ماحول ربوہ کا سب سے قریبی اہم اور قدیمی قصبہ لالیاں ہے۔جولالی قوم کا مرکز ہے۔لالی قوم ماحول ربوہ میں سب سے زیادہ بااثر مثالی کا شتکار، اور سیاسی و سماجی لحاظ سے معروف ہونے کے علاوہ ان کی اکثریت نیک شہرت اور مثبت سوچ کی حامل ہے۔کافی عرصہ کی بات ہے کہ ایک دن خاکسار ربوہ کے ایک قریبی شہر میں ایک سڑک پر پیدل جا رہا تھا کہ اچانک ایک کار قریب آکر ر کی دیکھا تو علاقہ کے سب سے بڑے زمیندار، سیاسی سماجی اثر و رسوخ کے حامل، جن کے بزرگ اسمبلیوں کے رکن رہے۔وہ کار سے اُترے مصافحہ اور معانقہ کیا۔معالقہ سے فارغ ہوئے تو میں نے ان کی آنکھوں میں آنسو تیرتے دیکھے۔چند لمحات کے توقف کے بعد انہوں نے کہا آپ کو علم ہے کہ میرا جواں سال لڑکا سخت بیمار ہوا اسے فوری لاہور لے جایا گیا۔لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا آپ تعزیت کے لئے بھی تشریف لائے تھے اور میری بڑی دلداری بھی کی تھی۔میں نے عرض کیا کہ مجھے سب یاد ہے۔انہوں نے کہا کہ جب سے اب تک میں سخت پریشان ہوں اور دعا کے لئے حضرت صاحب سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ میں کب حاضر ہوں۔میں نے عرض کی کہ میں تو قطعی طور پر اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ از خود وقت کا تعین کرسکوں۔البتہ آپ کی خواہش اور درخواست پہنچا دوں گا جو ارشاد ہوا عرض کر دوں گا۔ربوہ جا کر میں نے حضور کی خدمت میں درخواست کی تو حضور نے فرمایا مصروفیت تو بہت ہے۔لیکن چونکہ وہ ہمارے معزز ہمسایہ ہیں اور غم زدہ ہیں۔ان کو فلاں تاریخ کو بعد نماز عصر لے آئیں۔خاکسار نے ان صاحب کو وقت اور تاریخ بتادی کہ فلاں وقت دفتر پرائیویٹ سیکرٹری پہنچ جائیں۔وقت مقررہ پر جب میں پہنچا تو مجھ سے پہلے صاحب موصوف پہنچ چکے تھے اور دفتر کے باہر ٹہل رہے تھے۔خاکسار نے حضور کی خدمت میں اطلاع بھجوائی کہ ہم دونوں حاضر ہیں۔حاضری کی اجازت ملی۔میں اس ملاقات کا منظر تا زیست نہ بھلا سکوں گا۔یہ معزز مہمان اعلی تعلیم یافتہ اپنی قوم کے چیف تھے۔ان کے بزرگ ممبر اسمبلی وغیرہ منتخب ہوتے رہے۔قریباً 40 مربع اراضی کے واحد مالک تھے۔لاہور، سرگودھا ، ایبٹ آباد میں اپنے مکانات تھے۔1970ء کے عام انتخابات میں جماعت نے ان کے حریف کو ووٹ دیئے تھے اور یہ صاحب محض جماعتی ووٹوں سے محرومی کے باعث کامیاب نہ ہو سکے۔اس پس منظر کے باوجود حضور کی روحانی شخصیت کا ان پر غیر معمولی اثر تھا۔یہ واقعہ ان کی حضور سے عقیدت اور اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے محترم مہمان کمرہ ملاقات میں داخل ہوئے اور بلا توقف دونوں ہاتھ حضور کے گھٹنوں کی طرف بڑھائے۔حضور نے از راہ شفقت اور ہمدردی ان کے ہاتھ تھام لئے۔مہمان کو سینہ سے لگایا اور صوفہ پر تشریف رکھنے کا ارشاد فرمایا۔مہمان موصوف خاموشی سے انتہائی ادب و احترام اور معجز و انکسار سے حضور کے سامنے قالین پر بیٹھ گئے۔حضور نے فرمایا یہ طریق دین کی تعلیم کے خلاف ہے۔مجھے جو بھی ملنے آتا ہے۔چھوٹا ہو یا بڑا، امیر ہو یا غریب ہم سب اکٹھے بیٹھتے ہیں۔آپ ادھر صوفہ پر تشریف رکھیں۔لیکن وہ غم زدہ مہمان شدت غم اور حضور کے غیر معمولی احترام کے باعث بولنے کی کوشش کے باوجود نہ بول سکے۔ان کی آنکھیں آبدیدہ ہو گئیں۔حضور کے مشفقانہ اصرار پر وہ صوفہ پر بیٹھ تو گئے لیکن چند ہی لمحوں کے بعد یکدم