یادوں کے نقوش — Page 33
“ 39 آپ کو دوستی کا حق ادا کرنا چاہئے اور آپ ہمیں اس حق کی ادائیگی میں کبھی پیچھے نہ پائیں گے۔اگر آپ دوستی کے معیار میں پورے اُترے تو آئندہ انتخاب پر آپ کو ہم سے ووٹ مانگنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی بلکہ ہم آپ کو اس طرح ووٹ دیں گے جس طرح ایک امیدوار کا نام لے کر فرمایا ) ان کو جنہوں نے ہم سے ووٹ نہیں مانگے بلکہ ہم نے ان کو کہا ہے کہ ہم آپ کو ووٹ دیں گے۔کیونکہ وہ اچھے اور شریف دوست اور اچھے ہمسائے ہیں۔میں داد دیتا ہوں اس جواں ہمت اور جواں فکر امید وار کو جو حضور کے ان الفاظ کے بعد اپنی نشست سے اٹھے۔حضور کی خدمت میں آگے بڑھ کر مصافحہ کیا اور عہد کیا کہ وہ اچھے دوست اور ہمسائے کے فرائض نبھائیں گے۔وہ صاحب حضور کے اس موثر اور مخلصانہ مشورہ سے اس قدر متاثر ہوئے تھے کہ آئے تو وہ ووٹ لینے تھے مگر وفاداری بشرط استواری کا عہد باندھ کر روانہ ہوئے۔ان کی روانگی سے قبل حضور نے ایک ایسی بات بیان فرمائی جس کی مثال سیاسیات میں بہت ہی کم ملتی ہے۔آپ نے ان کی موجودگی میں ہی پہلی بار اس سیٹ کے لئے ووٹوں کا فیصلہ فرما لیا۔اور ان صاحب کو نہایت صاف گوئی سے بتا بھی دیا کہ ہم نے آپ کے دو حریفوں میں سے آپ کے اصل اور بڑے حریف کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔قارئین شاید اس پر حیران ہوں۔اصل بات یہ ہے کہ یہ طریق حضور نے عمدا اختیار فرمایا تھا۔حضور کو تجربہ اور علم تھا کہ امیدوار، ان کے سپورٹرز اور وٹ وغیرہ آخری دم تک دو عملی کی پالیسی اختیار کئے رکھتے ہیں جو ایک مومن کی شان کے قطعی منافی ہے۔اس لئے حضور نے ایسے کسی قسم کے ابہام سے بچنے کے لئے جس کی امداد کرنی تھی اس کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرنے سے قبل اس کو، جس کو ووٹ نہیں دینے تھے، اپنے فیصلے سے آگاہ فرما دیا۔تا کہ یہ صاحب اس سلسلہ میں دھوکے میں نہ رہیں اور دوسرے امیدوار جس کو ووٹ دینے ہوں اس کو بھی قطعی “ 40 اطمینان ہو جائے کہ جماعتی فیصلے واضح دوٹوک اور غیر مبہم ہوتے ہیں۔جب کہ سیاست کے اس دور میں جہاں لوگ آخری دم تک دوسروں کو دھو کہ میں رکھتے ہیں، یہ طرز عمل ، قرآن کریم کے حکم ، قول سدید کی عملی تصویر نظر آتا ہے۔بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی۔اس امید وار نے جس نے عہد دوستی کیا تھا آئندہ آنے والے زمانے میں حتی المقدور اپنے عہد کو نبھایا۔چنانچہ اللہ کے قائم کردہ خلیفہ نے جو الفاظ خلوص دل سے کہے تھے، اور جو وعدہ کیا تھا اس کو اس طرح پورا کیا که آمدہ عام انتخابات میں انہی صاحب کی امداد اور تائید اور دعا بھی کی۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ صاحب بفضلہ تعالیٰ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے۔جب ضروری رپورٹ ہو۔آجایا کریں حضور اکثر غیر از جماعت دوستوں کی بہتری اور بھلائی کے لئے خاکسار کو بعض ہدایات عطا فرمایا کرتے تھے۔ایک دفعہ انتخاب خلافت کے تھوڑی دیر بعد ہی ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔ملاقات کا وقت نہ ہونے کے باعث دفتر نے اطلاع دینے سے معذوری کا اظہار فرمایا جو مبنی بر حقیقت تھا۔دوسرے دن ملاقات کے لئے حاضر ہوا تو فرمایا کل نہیں آئے ! عرض کیا کہ حاضر ہوا تھا لیکن ملاقات کا وقت نہیں تھا جس کی وجہ سے ملاقات نہ ہوسکی۔اس پر حضور نے فرمایا آپ جب ضرورت ہو جایا کریں۔چنانچہ بعد میں ایسے ہی ہوتا رہا۔حضور کی اس انتہائی شفقت کے باوجود خاکسار بھی بلاضرورت اور بے وقت حاضر ہونے سے گریز کرتا۔لیکن حسب ضرورت ایک دفعہ صبح کی نماز سے قبل حاضر ہوا۔حضور اُسی وقت تشریف لائے اور امر متعلقہ کے بارے میں رپورٹ عرض کی جس پر حضور نے از راہ شفقت خوشنودی کا اظہار فرمایا۔خلافت ثالثہ کے آخری چند سالوں میں حضور کی اجازت سے یہ طریق اختیار