یادوں کے نقوش — Page 32
37 تعلق نہیں البتہ آپ کے نامزد کردہ اچھی شہرت کے حامل امید واروں کی ہم حمایت کریں گے۔اس کے بعد اس سیاسی جماعت کی طرف سے یہ کہا گیا کہ جس آزاد امیدوار کی آپ حمایت کر رہے ہیں، اسے کہا جائے کہ وہ ہماری سیاسی جماعت میں شامل ہو جائے۔درحقیقت اس سیاسی جماعت کا ملک کے دیگر حصوں میں تو بہت شہرہ تھا لیکن اس ضلع میں اس پارٹی کی کوئی خاص حیثیت نہ تھی اور وہ سیاسی جماعت اس آزاد امیدوار کو اپنی پارٹی میں شامل کر کے اس علاقے میں بھی اپنا اثر ورسوخ قائم کرنا چاہتی تھی۔اس پارٹی کے سربراہ نے اس درخواست کے ساتھ ساتھ دھمکی کا انداز بھی اختیار کیا اور کہا کہ اگر وہ امیدواران کی پارٹی میں شامل نہ ہوئے تو ہم اپنا امیدوار کھڑا کر دیں گے اور امید کرتے ہیں کہ آپ ہمارے امیدوار کی تائید اور حمایت کریں گے۔حضور اس وقت ایبٹ آباد میں قیام فرما تھے۔خاکسار حسب ہدایت ہنگامی طور پر یہ پیغام لے کر پہنچا۔حضور نے فرمایا ان کو کہہ دیں ہم آزاد امیدوار کو ووٹ دینے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ہم اپنے وعدہ کی قطعاً خلاف ورزی نہیں کریں گے اور نہ اپنے ووٹوں کے بدلہ میں یہ شرط لگا ئیں گے کہ وہ آپ کی پارٹی میں شامل ہو جائیں کیونکہ ہم نے اسے غیر مشروط طور پر ووٹ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ہاں آپ اپنی کوشش سے ان کو اپنی پارٹی میں شامل کر لیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔حضور نے مزید فرمایا کہ اس پارٹی کو بتاؤں کہ اگر آپ نے چنیوٹ میں آزاد امیدوار کے مقابلے میں اپنا امیدوار نامزد کیا تو ہم نہ صرف چنیوٹ میں بلکہ پورے ملک میں آپ کے امیدواروں کی مخالفت کریں گے۔حضور نے مجھے ہدایت فرمائی کہ فورا واپس جا کر یہ پیغام متعلقہ پارٹی اور اس کے سربراہ کو پہنچا دیں۔مجھے فرمایا کہ آپ ذاتی طور پر اس آزاد امید وار سے رابطہ رکھیں لیکن یہ خیال رکھیں کہ میری طرف سے قطعاً ان کو اس سیاسی پارٹی میں شمولیت “ 38 کے لئے نہ کہیں۔خاکسار کو حضور نے ہدایات فرمائی کہ ایک لمحہ ضائع کئے بغیر فوراً واپس پہنچیں کا ر بھی لینی پڑے تو حاصل کریں۔خاکسار نے ربوہ پہنچ کر حضور کا پیغام پہنچا دیا اور خود اس آزاد امیدوار کے پاس پہنچ گیا تا کہ ان سے رابطہ رہے۔حضور کا ڈنکے کی چوٹ پر یہ اعلان جب متعلقہ سیاسی پارٹی کے سربراہ تک پہنچا تو وہ دنگ رہ گئے اب ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ از خود اس امید وار کے پاس جا کر رابطہ کریں۔چنانچہ وہ خود مورخہ 25 ستمبر 1970ء کو اس امیدوار کے گاؤں پہنچے وہاں رات قیام کیا۔امیدوار کو منایا اور اس امیدوار کو اپنی جماعت میں شامل کر لیا۔حضور نے ایک لمحہ بھی اپنے عہد سے انحراف نہ فرمایا اور اس امید وار سے جو وعدہ فرمایا تھا اس کو نبھانے کی خاطر ملک کے ایک بڑے سیاستدان کو بھی صاف جواب دے دیا۔اور وہ بھی آپ کی اصول پرستی کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گیا۔روزنامه الفضل 19 ستمبر 2001ء) غریبوں اور ہمسایوں سے حسن سلوک کی تلقین 1970ء کا ذکر ہے۔عام انتخابات ہونے والے تھے قومی اسمبلی کی سیٹ کے لئے انتخابات لڑنے کے ایک خواہش مند امید وار ووٹ مانگنے کے لئے تشریف لائے۔اس وقت تک کسی امیدوار کے حق میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے کوئی فیصلہ نہ فرمایا تھا۔ان صاحب کو حضور محض اس لئے نا پسند فرماتے تھے کہ وہ غریب عوام اور ہمسایوں سے حسن سلوک نہیں کرتے۔آپ نے بڑی صاف گوئی سے لیکن بڑے موثر انداز میں فرمایا کہ آپ پانچ سال کے بعد ووٹوں کے لئے آجاتے ہیں۔جب کہ درمیانی عرصہ میں اچھے ہمسائے اور دوستی کے فرائض بھول جاتے ہیں۔اس لئے آج آپ اچھے ہمسایہ اور دوستی کے فرائض نبھانے کا عہد کریں۔آنے والے انتخاب تک