یادوں کے نقوش — Page 24
21 بظاہر ان کا تعلق مولویوں کی جماعت سے تھا اس کے باوجود حضور نے ان کی کامیابی کے لئے دعا اور امداد فرمائی اور موصوف کامیاب ہوئے۔دراصل بھروانہ صاحب خود تو مولوی نہ تھے مگر سیاسی گروہ بندیوں میں وہ اس جماعت سے اشتراک کرنے پر مجبور ہو گئے۔ان کی مجبوریوں کا حضرت صاحب نے قطعاً برانہ منایا بلکہ ان کی پہلے ہی کی طرح تائید وحمایت کی۔وفا اور دوستی کا حق ادا کرنے والا وجود حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی خدمت میں جب بھی غیر از جماعت معززین ملاقات کے لئے تشریف لاتے اور آپ سے تعلق مستحکم کرنے اور دوستی کو کما حقہ نبھانے کا تاثر دیتے تو آپ انہیں اکثر و بیشتر فرماتے کہ ہم جب کسی سے دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں تو پہلے کبھی ہاتھ واپس نہیں کھینچتے۔حضور بعض مثالیں بیان کر کے اپنے تعلق دوستی کی وضاحت فرماتے مثلاً یہ کہ حضرت بانی سلسلہ کا ارشاد ہے کہ اگر میرا دوست شراب کے نشہ میں دھت بازار میں پڑا ہو تو میں اسے کندھے پر اٹھا کر لانے سے کبھی عار محسوس نہیں کروں گا اور یہ کبھی نہیں سوچوں گا کہ لوگ کیا کہیں گے۔دوسری مثال حضور اس عرب کی پیش فرمایا کرتے تھے جس کا بیٹا ہر کس و ناکس کو دوست بنالیا کرتا تھا لیکن وہ مشکل کے وقت اس کے کام نہ آتے تھے۔ایک دن وہ اپنے بیٹے کو وفادار دوست کی عملی مثال دینے کی خاطر آدھی رات کے وقت اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر اپنے ایک دوست کے گھر گئے۔دونوں نے مکان پر جا کر دستک دی اور آواز دے کر بتایا کہ ہم آپ سے ملنے آئے ہیں اندر سے جب کچھ دیر تک جواب نہ آیا تو لڑکے نے کہا ابا! آپ کے دوست نے باہر آنا تو کجا آپ کی آواز کا جواب تک نہیں دیا۔اس پر اس کے والد نے کہا بیٹا انتظار کرو۔“ 22 تھوڑی دیر کے بعد گھر کا دروازہ کھلا اور صاحب خانہ اس حالت میں برآمد ہوا کہ وہ زرہ پہنے ہوئے تھا اس کے ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے ہاتھ میں اشرفیوں کی تھیلی تھی۔آتے ہی کہا کہ آپ آدھی رات کے وقت آئے ہیں اس لئے میں تیار ہو کر آیا ہوں۔اگر آپ کو کسی دشمن کا سامنا ہے تو آئیے چل کر مقابلہ کرتے ہیں۔اگر مالی پریشانی ہے تو یہ اشرفیوں کی تھیلی حاضر ہے۔یہ صورت حال دیکھ کر بیٹا مخلص دوست کی اہمیت اور پہچان سمجھ گیا۔کہ واقعی دوست ایسا ہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں کام آئے۔اسی تعلق پروری کی نادر مثال ملاحظہ فرما ئیں۔جب حکومت نے حضرت مسیح موعود کی کتاب "سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جواب ضبط کی تو حضرت صاحب نے مکرم مولا نا احمد خان صاحب نسیم اور خاکسار کو ارشاد فرمایا کہ مہر غلام حیدر صاحب بھروانہ ایم این اے سے رابطہ کریں۔گرمیوں کا موسم تھا۔بھروانہ صاحب مرحوم اطلاع ملتے ہی سخت گرمی میں دو پہر کے وقت ربوہ تشریف لائے محترم مولانا احمد خان صاحب نسیم نے اپنا مدعا بیان کیا۔چند لمحات کے بعد ہی بھروانہ صاحب بولے۔عجیب زیادتی ہے کہ پاکستان میں اسلام کے خلاف لکھنے میں آزادی ہے لیکن کوئی ان کے خلاف جواب دے تو وہ ضبط کر لیا جائے۔ساتھ ہی کہا کہ چند سفید کاغذ دیں۔کاغذ ملتے ہی ہر کاغذ کے نیچے بلا توقف دستخط کرتے چلے گئے اور کہا کہ اس پر آپ جو چاہے احتجاجی بیان لکھیں اور پریس کو دے دیں۔نیز افسران بالا کو بھی میری طرف سے یہ بیان بھجوا دیں۔میں ہر جگہ اور ہر پلیٹ فارم پر اس کی توثیق اور تائید کروں گا۔بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں گورنر کے پاس جا کر بھی احتجاج کروں گا۔یادر ہے کہ اس وقت مغربی پاکستان کے گورنر ملک امیر محمد خان نواب آف کالا باغ جیسے سخت گیر شخص تھے۔چنانچہ انہوں نے گورنر صاحب کے پاس جا کر احتجاج کیا۔گورنر نواب