یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 122 of 137

یادوں کے نقوش — Page 122

211 “ 212 محترمہ بی بی غلام سکینه صاحبه محترمہ بی بی غلام سکینہ صاحبہ رشتہ میں ہماری تایا زاد بڑی بہن تھیں۔آپ بزرگی، آنتونی کے ساتھ اطاعت نظام کی خوگر تھیں اور خلافت سے والہانہ عقیدت رکھتی تھیں۔سب کی خیر خواہ، ہمدرد اور دعا گو خاتون تھیں۔آپ حضرت حافظ فتح محمد خان صاحب رفیق حضرت مسیح موعود کی سب سے بڑی ہوتی تھیں۔پیاری بہن کا وجود ہمارے خاندان کے لئے ما در مہربان سے کم نہ تھا۔آپ فرمایا کرتی تھیں کہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے دور فقاء حضرت مسیح موعود یعنی میرے دادا جان حضرت حافظ فتح محمد خان صاحب مندرانی بلوچ اور میرے ناناجان حضرت میاں اللہ بخش خان صاحب بزدار کی دعاؤں، راہنمائی اور تربیت کا فیض ملا اور میں اب جو بھی ہوں خدا تعالیٰ کے فضل کے بعد انہی کی دعاؤں کا ثمر ہوں۔حالات زندگی آپ یکم جنوری 1926ء میں کوہ سلیمان کے دامن میں واقع بستی مندرانی جو مند رانی بلوچوں کا مسکن ہے، سردار غلام محمد خان صاحب ولد حضرت حافظ فتح محمد خان صاحب رفیق حضرت مسیح موعود کے ہاں پیدا ہوئیں۔سردار غلام محمد خان صاحب اپنی بستی اور علاقہ میں بلا امتیاز بچوں بچیوں کو قرآن پاک پڑھانے اور حاذق طبیب ہونے کے باعث عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔حصول علم کے لئے سفر کی صعوبت محترمہ غلام سکینہ صاحبہ نے 1947ء سے قبل ڈیرہ غازیخان میں جے وی ٹی کا کورس کامیابی سے مکمل کیا۔بستی مندرانی سے ڈیرہ غازیخان شہر تقریباً80 کلومیٹر تھا۔جبکہ سواری صرف اور صرف اونٹ کی ہوتی تھی۔وہ بھی خوش قسمتوں کو میسر آتی جبکہ اکثریت پیدل سفر کرتی تھی۔مذکورہ طویل سفر ایک دن اونٹ پر طے کرنا ناممکن تھا۔بستی مند رانی سے صبح روانہ ہو کر ہماری بہن بی بی غلام سکینہ حصول علم کے لئے رات شادن لنڈ میں اپنے عزیز احمدی گھرانہ میں پڑاؤ کرتیں اور دوسرے روز شام ڈھلے ڈیرہ غازیخان پہنچتیں۔بحیثیت معلمہ آپ بطور معلمہ جس جس سکول میں تعینات ہوتیں مثالی، ہمدرد استاد کی حیثیت سے اس گاؤں میں غیر معمولی نیک اثرات اور یادیں چھوڑ آتیں۔ان کی سب سے بڑی خوبی بچوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ نصابی کورس کی تکمیل کے علاوہ انہیں قرآن پاک پڑھانا تھا۔علاوہ ازیں طالبات اور دیگر خواتین کو اپنے والد محترم سے علم طب کا جو فیض آپ نے پایا۔حسب ضرورت دواؤں کے ساتھ مستحقین کا مفت علاج اور ہمدردی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیتیں۔ہمارے دادا جان حضرت حافظ فتح محمد خان صاحب رفیق حضرت مسیح موعود کی اولا د در اولاد میں سے ہماری یہ بڑی بہن واحد خوش نصیب ہیں کہ جب دادا جان قرآن پاک کی تلاوت کرتے تو اپنی اس خوش بخت معصوم پوتی بی بی غلام سکینہ کو اپنی گود میں لے لیتے۔دوران تلاوت وہ اپنے دادا جان کی گود میں آپ کی غیر معمولی حسن قراءت کو ہمہ تن گوش ہو کر سنتی رہتیں۔دادا جان فرمایا کرتے تھے کہ میری اس پوتی (غلام سکینہ ) کو قرآن پاک سے بے انتہا عشق ہوگا۔آپ کا یہ فرمان بعد میں من وعن پورا ہوا۔ازدواجی زندگی آپ کی شادی اپنے ماموں کے اکلوتے بیٹے مکرم نور محمد خان صاحب بزدار