یادوں کے نقوش — Page 121
“ 209 ایسی حق تلفی کی مثالیں بہت کم ہیں۔میری اہلیہ مجھے ہمیشہ کہتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو کچھ دیا ہے شرعی تقاضوں کے مطابق ہم نے اپنی بیٹیوں کو ضرور حصہ دینا ہے اور یہ بات جنون کی حد تک اس کے دل میں نقش تھی۔خدا تعالیٰ نے اس کو خوش الحانی عطا فرمائی تھی۔فجر کے بعد کلام الہی کی بآواز بلند تلاوت کرتیں۔اس کا معمول تھا گھر میں کام کاج کے دوران کبھی زیر لب اور کبھی قدرے اونچی آواز میں مسنون دعائیں پڑھتی رہتیں۔اردو نظموں میں یہ دو نظمیں تو اکثر خوش الحانی سے پڑھتی تھیں۔پہلی حضرت بانی سلسلہ کی معرکۃ الآرا نظم۔اک نہ اک دن پیش ہو گا تو فنا کے سامنے دوسری نظم حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی بعنوان میدان حشر کے تصور میں جس کا پہلا شعر نہ روک راہ میں مولا شتاب جانے دے کھلا تو ہے تری جنت کا باب جانے دے چنانچہ خدا تعالیٰ نے اس کی دلی آواز کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے اسے شتاب جانے دیا۔خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس نظم کے دوسرے دعائیہ اشعار کو بھی شرف قبولیت بخشتے ہوئے بے حساب جانے دے یعنی مجھے تو دامن رحمت میں ڈھانپ لے یونہی حساب مجھ سے نہ لے بے حساب جانے دے مذکورہ نظموں کے علاوہ چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے یہ دود عا ئیں کرتیں تھیں کہ 1 - اللہ تعالیٰ مجھے اپنے سسرال اور میکے میں سے کوئی بھی غیر معمولی غم نہ “ دکھائے۔میں خدا کے حضور سب سے پہلے حاضر ہوں۔2۔اے اللہ مجھے زندگی میں کسی کا محتاج نہ کرنا۔210 خدا تعالیٰ نے اس کی یہ دونوں دعائیں لفظ بلفظ قبول فرمائیں اور کوئی غیر معمولی غم دیکھے اور ایک لمحہ کے لئے بھی کسی کی محتاج ہوئے بغیر اس کا انجام بخیر ہوا۔قارئین کرام سے درخواست دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے دامن رحمت میں ڈھانپ لے اور جملہ پسماندگان کا حافظ و ناصر ہو۔(روز نامہ الفضل 8 جون 1996ء)