یادوں کے نقوش — Page 120
207 اکتفاء کیا۔مستحقین رشتہ داروں میں سے ہوں یا غیر، ان کی امداد کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیتی تھیں۔اس کی وفات کے بعد بیسیوں واقعات سامنے آئے جن کی وہ خاموش مالی امداد کرتی تھیں دو قریب ترین عزیز جو کثیر کنبہ کے واحد کفیل تھے ان کے استحقاق کے پیش نظر تو اس نے اپنی دعا اور جملہ وسائل ان کے لئے وقف کر رکھے تھے۔مالی امداد کے ساتھ ساتھ حسب ضرورت قیمتی پار جات ادویات سال کی گندم مستقل طور پر مہیا کرتی رہیں۔ایک دفعہ گول بازار گئیں واپسی پر ٹانگہ لیا ٹانگہ والے نے دس روپے مانگے کہا نہیں یہ زیادہ ہیں پانچ روپے کافی ہیں نزدیک ہی تو گھر ہے۔اس نے کہا بیٹھ جاؤ راستہ میں ضعیف مفلس کو چوان نے کہا ”بی بی میرالر کا بیمار ہے اس کو ہفتہ میں ایک ٹیکہ یکصد روپے کا لگتا ہے میرے پاس آج رقم کم ہے۔گھر پہنچ کر اس کو کہا ذرا ٹھہرو۔اپنی دو بیٹیوں کو واقعہ سنا کر کچھ ان سے عطیہ لیا اور کچھ اپنی جیب سے نکال کر کرایہ کے علاوہ اس کو دے کر کہا کہ آئندہ جب بھی ٹیکہ کی رقم کم ہو یا علاج کے لئے تمہارے پاس رقم نہ ہو تو یہ میرا گھر ہے مجھ سے آکر لے جایا کرو۔چنانچہ جب بھی اس کو ضرورت پڑتی وہ آکر مطلوبہ رقم لے جاتا۔موصوفہ کی وفات کے بعد بزرگ ٹانگے والے کو جب وفات کا علم ہوا تو وہ بغرض تعزیت حاضر ہوا تو اس نے تعزیت کرتے وقت آبدیدہ ہو کر یہ واقعہ میرے ایک عزیز کو سنایا۔موصوفہ کو قادیان کی زیارت کا بے حد شوق تھا۔چنانچہ وفات سے چند ماہ قبل اس نے اپنا پاسپورٹ بنوانے کے لئے دیا۔دلی خواہش اور تڑپ تھی کہ امسال اگر جماعتی سرکاری سطح پر کوئی امر مانع نہ ہوا تو قادیان ضرور جاؤں گی لیکن اس کی یہ حسرت دل ہی دل میں رہ گئی۔اس کا پاسپورٹ اس کی وفات کے بعد جب بن کر آیا تو دیکھتے ہی بے ساختہ زبان سے نکلا۔تو ملے یا نہ ملے ہے تقدیر کی بات تو تیری تصویر سے دل شاد کروں یا نہ کروں “ 208 ساس بہو کا رشتہ گھر یلوسکون کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔خوش قسمت ہیں وہ گھرانے جن گھروں میں ساس بہو کے ہوتے ہوئے بھی ماحول مثالی اور پُر امن ہو۔ماں اور بیٹی کے مقدس رشتہ کے علاوہ کسی قسم کی گنجائش نہ ہو۔خاکسار کا گھر اس لحاظ سے بفضل تعالیٰ مثالی تھا۔زوجہ ام ساس بھی تھی اور بہو بھی۔اس کو دونوں کردار مثالی رنگ میں ادا کرنے کی توفیق حاصل رہی۔جہاں اس کو میری والدہ محترمہ کی بے پناہ خدمت کی سعادت نصیب رہی۔وہاں اس کو اپنی بہو جسے وہ ہمیشہ پیار سے بیٹی کہہ کر پکارتی تھیں۔ہر سہ کا باہم رشتہ ماں اور بیٹی کے مقدس رشتہ میں رنگین رہا۔اپنی ہر بہو کے ساتھ ہمیشہ غیر معمولی محبت ،حسن سلوک اور پیار کا رشتہ رہا۔میری سب سے چھوٹی بیٹی ، دو بہوئیں ، ایک چھوٹی بھاوجہ جرمنی میں مقیم ہیں۔میری اہلیہ نے جب بھی کسی تہوار پر یا کسی اور موقع پر تحائف بھجوائے وہ سب کے لئے یکساں ہوتے۔یہ ناممکن تھا کہ وہ صرف اپنی بیٹی کو تحفہ بھیجتیں اور دیگر تینوں کو نظر انداز کر دیتیں۔عزیزم مبشر ظفر کی شادی کو دس سال ہونے کو ہیں اس کا کافی سامان جہیز یہاں ربوہ میں پڑا ہے۔جب بھی زیادہ مہمان آجاتے اس کے سامان میں سے ایک چیچی تک بھی نہ نکالتیں۔کہتی تھیں یہ میری بیٹی کی امانت ہے۔جب خیر سے آئے گی وہ خوداستعمال کرے گی۔میری والدہ محترمہ کے ساتھ اس کی محبت اور خدمت کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ جتنی میری والدہ محترمہ کو اس وقت اپنی بہو کی وفات کا صدمہ ہے وہ بیان سے باہر ہے۔وہ ہر وقت اس کی خدمت، ضیافت ،سیرت اور عبادت کا ذکر خیر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو جاتی ہیں۔دنیا دار لوگ بیٹیوں کی نسبت بیٹوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔باوجود شرعی احکام کے بعض لوگ بیٹیوں کو وراثت سے محروم رکھتے ہیں۔اگر چہ جماعت احمدیہ میں