یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 119 of 137

یادوں کے نقوش — Page 119

205 پیشانی اور بشاشت قلب سے مہمانوں سے پیش آتیں۔احمد نگر میں تو دن بھر ضیافت کا سلسلہ چلتا رہتا۔خصوصاً سال 1970 ء سیلاب 1973ء اور ابتلا کے سال 1974ء اور 1984ء میں تو کوئی لمحہ بھی ضیافت سے خالی نہ ہوتا۔مہمان نوازی میں سب سے زیادہ خوشی سلسلہ کے بزرگوں اور اپنوں وغیروں میں مفلس اور سادہ قسم کے مہمانوں کی ضیافت میں محسوس کرتیں۔ربوہ میں ہمارا مکان ایک سرکاری ادارہ کے قریب ہے۔حق ہمسائیگی کے تقاضوں کے پیش نظر وقت بے وقت جب بھی جس چیز کی ضرورت ہوتی مہیا کرنے میں تکلیف محسوس نہ کرتیں۔خاکسار کی چار بیٹیاں ہیں۔جبکہ آمدنی محدود تھی اور خاکسار طبعا فکر فردا سے بے نیاز تھا۔میرے وہم و گمان میں نہ تھا کہ محدود تنخواہ میں بچیوں کا جہیز بنایا جا سکتا ہے۔جب بڑی بیٹی کے رشتہ کی بات چلی تو مجھے فکر ہوا کہ جہیز وغیرہ کیسے بنے گا۔مجھے فکرمند دیکھ کر کہا کہ پریشان کیوں ہیں۔میں نے بفضل اللہ تعالیٰ ماسوائے زیوارت اور فرنیچر کے ضرورت کی تمام چیزیں بنارکھی ہیں۔وضاحت سے بتایا کہ بیٹی چند سال کی تھی کہ میں ہر ماہ کمیٹی ڈال کر اور کچھ پس انداز کر کے بیٹی کے جہیز کے لئے کچھ نہ کچھ خریدتی رہی ہوں۔جہیز کا آغاز اس نے ہمیشہ جائے نماز کی خرید سے کیا اور اختتام تفسیر صغیر کی خرید پر ہوتا۔اس طرح اس نے مجھے بغیر پریشان کئے اپنے محدود وسائل کو حکمت عملی سے بروئے کار لا کر سادہ بنیادی جہیز اپنی بیٹیوں کو دیا۔خاکسار کی بیٹیاں اپنے بچوں کے ہمراہ جب بھی آتیں تمام بچوں کو بروقت عبادت کراتیں۔کلام الہی سننے کے علاوہ بچوں کو اپنے ساتھ لٹا کر قصے کہانیاں سنانے کی بجائے چھوٹی چھوٹی دعائیں از بر کرواتیں۔میں نے پوچھا کہ آپ نے اتنی دعائیں کب اور کیسے یاد کی تھیں۔کہنے لگیں کہ میرے والد صاحب مجھے اسی طرح بچپن میں اپنے ساتھ سلا کر دعائیں یاد کرواتے تھے۔“ 206 جرمنی میں مقیم اپنے بچوں کو جب تحائف بھجواتیں ان میں سر فہرست دینی کتب نماز با ترجمہ قاعدہ میسرنا القرآن دعاؤں کے کتابچے شامل ہوتے۔طبیعت میں خود داری اور خود کفالت کا جذبہ بدرجہ اتم موجود تھا۔تنگ دستی عسر ویسر ہر حال میں بشاشت قلب سے با ہمت رفیقہ حیات کی طرح ساتھ نبھایا۔آغاز میں خاکسار جامعہ احمدیہ میں پڑھتا تھا 30 روپے ماہانہ وظیفہ ملتا تھا۔ایک بیٹی بھی تھی۔تنگ دستی کے باعث خاکسار نے کبھی قرض حسنہ حاصل کرنے کا اظہار کیا تو بڑی خود اعتمادی سے کہا کہ قرض نہیں اٹھانا اللہ تعالیٰ اسی میں برکت دے گا۔اس وقت بھی نہ تو مہمان نوازی سے ہاتھ کھینچا اور نہ ہی کسی حاجت مند کو خالی لوٹایا۔آغاز میں احمد نگر میں ایک ہی کمرہ تھا۔اس کی چھت گر گئی۔آمدنی محدود تھی۔بوسیدہ مکان کو گرا کر دوبارہ کھڑا کرنا کارے داد تھا۔سوچتا رہا کیا کروں۔کہنے لگیں آپ فکر نہ کریں۔خود مزدوری کروں گی۔آپ دو مزدور لگا کر بوسیدہ مکان گروا دیں۔ہندوؤں کی بنی ہوئی عمارت تھی جس کی بنیاد میں ہزاروں اینٹیں تھیں۔شام سے لے کر رات گئے تک بنیادوں سے سینکڑوں اینٹیں نکال کر راتوں رات ترائی کر کے تیار کر چھوڑتیں۔صبح جب راج آتے تو حیرانگی سے دریافت کرتے کہ رات بھر کتنے مزدور لگے رہے ہیں۔تنگ دستی اور اتنی محنت کے باوجود مزدوروں کی طے شدہ اجرت کے علاوہ ان کی با قاعدگی سے ہر روز چائے اور مشروب سے تواضع کرنا یقینی ہوتا۔ربوہ میں مکان کی تعمیر قسطوں میں مکمل ہوئی۔عزیزم آصف نے امی سے کہا کہ میری خواہش ہے کہ اس تھوڑے سے حصے میں سنگ مرمر لگایا جائے جس پر والدہ نے کہا کہ بیٹا مکان کو تصویر خانہ نہیں بنانا۔خدا تعالیٰ نے ہماری حیثیت سے بھی زیادہ بچوں کے تعاون سے مکان بنانے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ضرورت سے زیادہ نمائش مناسب نہیں۔چنانچہ ماں کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے بیٹے نے سادہ پلستر پر ہی