یادوں کے نقوش — Page 107
“ ڈسٹرکٹ جیل میں اسیران سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔181 مکرم ماسٹر صاحب ہشاش بشاش تھے ان کے چہرے پر طمانیت قابل دید تھی فرمایا حضور اقدس کے دعائیہ خطوط کے بعد ہم ہر قسم کے تفکرات اور پریشانی سے بے فکر ہو چکے ہیں۔سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا۔کہ یہاں قیدیوں کو قرآن پاک پڑھانے کی سعادت کے علاوہ دعوت الی اللہ کا بھی نادر موقع ملا ہوا ہے۔۔۔۔۔جب ہم اسیران کے گھروں میں حاضر ہوئے تو سبھی کے چہروں پر طمانیت کے آثار واضح اور حوصلے بلند تھے۔مسلسل مقدمات کے باوجود آپ نے نہ صرف اپنے فرائض کا سلسلہ جاری رکھا بلکہ آپ کا قدم آگے سے آگے بڑھتا رہا۔یہ محض خدا کے فضل اور حضور کی دعاؤں اور حوصلہ افزائی کے باعث ہی ممکن ہوا۔آخری ملاقات مکرم ماسٹر صاحب مورخہ 25 جون 2000ء کو نظارت امور عامہ تشریف لائے اور محترم مکرم ناظر صاحب اعلیٰ اور مکرم محترم ناظر صاحب امور عامہ سے ملاقات کے بعد از راہ شفقت حسب معمول خاکسار کے کمرہ میں تشریف لائے السر اور گھٹنوں کی دیرینہ تکلیف کے باوجود ان کے چہرہ پر چمک دمک اور آواز میں گھن گرج بدستور قائم تھی۔سرائیکی روایات کے مطابق حال احوال کے بعد میرے استفسار پر فرمایا کہ بفضل تعالیٰ تمام مقدمات سے باعزت بری ہو چکے ہیں۔اب صرف ایک آخری مقدمہ ہے ماحول اور حالات ناموافق ہیں اس لیے مرکز سے دعا اور راہنمائی کی درخواست کے لیے حاضر ہوا ہوں۔جس پر مکرم ناظر صاحب امور عامہ نے مکرم شریف احمد صاحب ایڈووکیٹ ملتان کی خدمت میں مقدمہ کی پیروی کا خط دیا “ 182 ہے۔آج لاہور جا رہا ہوں دو دن بڑی بیٹی کے پاس قیام کروں گا پھر مقدمہ کے سلسلہ میں ملتان جاؤں گا۔یہ ان کا پروگرام تھا۔لیکن تقدیر الہی کچھ اور ہی فیصلہ کر چکی تھی مورخہ 29 جون 2000ء کو عزیزم طیب عرفان کا صبح سویرے فون آیا۔جس نے یہ المناک خبر سنائی کہ والد محترم سروسز ہسپتال لاہور میں فوت ہو گئے ہیں۔آپ کی میت ربوہ لائی گئی مورخہ 30 جون 2000 ء کو مکرم حافظ مظفر احمد صاحب نے بیت المبارک میں نماز جنازہ پڑھائی اور بعد از تدفین مکرم حافظ صاحب نے ہی دعا کروائی۔آپ کی وفات کے بعد عدالت نے آخری مقدمہ سے بھی جملہ ملزمان کو باعزت بری کر دیا۔اس طرح بفضلہ تعالیٰ اور حضور انور کی دعاؤں کے باعث مکرم ماسٹر خان محمد صاحب اور ان کے خاندان کے افراد پانچوں مقدمات سے باعزت طور پر بری ہو چکے ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ مخالفین کی طرف سے تمام تر مقدمات اور دباؤ کا نشانہ مکرم ماسٹر صاحب موصوف کی ذات تھی۔مخالفین کے جملہ حربے مقدمات ایذارسانیاں آپ کے پائے استقلال میں رائی برابر بھی لرزش پیدا نہ کرسکیں۔اور نہ ہی ایک لمحہ کے لیے آپ کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر سکیں۔آپ چٹان کی طرح ثابت قدم رہے۔خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را قارئین کرام سے درخواست دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مکرم ماسٹر صاحب کو اپنی چادر رحمت میں ڈھانپ لے اور ان کی اہلیہ محترمہ (جواب وفات پاچکی ہیں اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔) اور بچوں کا حافظ و ناصر ہو اور ان کی اولا د اور خاندان کو اپنے بزرگوں کے نقش پا پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔( آمین ثم آمین ) (روز نامہ الفضل 17 مئی 2001ء)