یادوں کے نقوش — Page 106
کے طور پر لمبا عرصہ خدمت کی توفیق میسر آئی۔179 2۔آپ کے پانچ بیٹوں میں سے مکرم حافظ فرقان صاحب ایڈووکیٹ کو بطور قائد ضلع اور پھر بطور قائد علاقائی خدمت کا اعزاز حاصل رہا۔3 - مکرم برہان احمد صاحب کو بھی قائد ضلع اور پھر قائد علاقہ کے طور پر خدمت کا موقع ملا۔4 مکرم سلطان محمد صاحب کو قائد خدام الاحمد بی ضلع کے طور پر خدمات کی تو فیق ملی۔عزیزم لقمان محمد صاحب ایم اے اکنامکس سرکاری عہدہ پر فائز تھے۔وقف کی درخواست منظور ہوتے ہی سرکاری منصب کو فوری خیر باد کہتے ہوئے زندگی سلسلہ کے لیے وقف کر دی۔انہیں سیرالیون مغربی افریقہ میں تین سال بطور ٹیچر بعد میں چار سال یوگنڈا میں خدمات سرانجام دینے کی سعادت حاصل ہوتی رہی اور آج کل بفضل تعالیٰ بطور نائب وکیل المال اول ( حال وکیل المال اول ) خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔جب کہ آپ کی چھوٹی بیٹی زوجہ مکرم مبشر احمد خان ظفر اس وقت کیل جرمنی میں بطور صدر لجنہ اماءاللہ خدمات کی توفیق پارہی ہیں۔نہایت بے انصافی ہوگی اگر اس موقع پر آپ کے سب سے چھوٹے فرزند عزیزم طیب عرفان کا ذکر نہ کیا جائے جو مقدمات کے نشانہ کے علاوہ محترم امیر صاحب کے ساتھ بطور معاون خاص ، ڈرائیور محافظ، زندگی بھر ہمسفر رہا لیکن افسوس کہ سفر آخرت کے وقت موجود نہ تھا جس کا عزیز کو شدت سے احساس ہے۔ایک خاندان اور پانچ مقدمات جماعتی خدمات کا یہ اعزاز اور اعتراف ہے کہ مخالفین اور معاندین سلسلہ نے مکرم ماسٹر خان محمد صاحب اور ان کے خاندان کو ہٹ لسٹ پر رکھا ہوا تھا مکرم ماسٹر صاحب کے پانچ بیٹے ہیں جب کہ عجب حسن اتفاق ہے کہ 1984ء کے بعد انہیں “ 180 پانچ مقدمات اور قید و بند کی صعوبتوں نے تاریخ کا حصہ بنادیا۔اس سے بڑھ کر ایوارڈ اور کیا ہو سکتا ہے۔جب کہ 1976ء کا مقدمہ ان کے علاوہ تھا۔،، مکرم ماسٹر صاحب کو اگر چہ بیک وقت کئی مقدمات کا سامنا تھا لیکن سب سے قابل فخر مقدمہ اور اسیری قرآن پاک کے سرائیکی ترجمہ پر نصیب ہوئی۔آپ جب ڈسٹرکٹ جیل ڈیرہ غازی خان میں محبوس تھے تو پیارے آقا کی طرف سے جو دعائیہ خط محررہ 7 فروری 1992 ء موصول ہوا اس میں حضور نے تحریر فرمایا:۔قرآن مجید کے ترجمہ کرنے کے جرم میں سزا جو یقینا قابل فخر سزا ہے اس کا اجر تو خدا تعالیٰ ہی دے گا مجھے اتنا پتہ ہے کہ قرآن مجید کی راہ میں تکلیف اٹھانے والے بڑے خوش نصیب ہیں اور یہ ان کے لیے بہت بڑا ایوارڈ ہے بدنصیب ہیں وہ جو نہیں سمجھتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ مرفوع القلم لوگوں کو خود سمجھائے۔آپ اس دور کو دعاؤں سے گزاریں۔۔۔پیارے آقا کی دعاؤں کو اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت بخشتے ہوئے نہ صرف عرصہ اسیری کم کیا بلکہ یہ سنگین مقدمہ جس کا مدعی سلسلہ کا اشد اور کٹر مخالف تھا۔مخالفین کی تمام تر کوششوں کے باوجود دیگر مقدمات سے بھی پہلے بلکہ بہت پہلے ختم ہوا اور معزز و محترم ملزمان باعزت بری ہوئے۔الحمد للہ علی ذالک۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ مقدمہ مدعی نے ڈی سی صاحب ڈیرہ غازی خان کے توسط سے چاک کروایا تھا۔حضور انور کے خطوط اور حوصلہ افزائی نے تو نہ صرف اسیران بلکہ ان کے جملہ اہل خانہ کے اندر ایسی روح پھونکی جس پر خدا کا جتنا شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے۔اس وقت کے ناظر امور عامہ کے ارشاد کی تعمیل میں مجھے بھی ان کے ہمراہ D۔G۔K