یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 105 of 137

یادوں کے نقوش — Page 105

177 اس نے آگے بڑھ کر اپنا تعارف کرایا۔یہ غیبی حمایت تھی جس کے بارہ میں بقول مکرم امیر صاحب آخری دم تک اس کا علم نہ ہو سکا اسے نصرت الہی کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔عدد بڑھ گیا شور وفغاں میں نہاں ہم ہو گئے یار نہاں میں نافع الناس وجود جماعتی فرائض مقدمات کے ساتھ ساتھ آپ اپنے گاؤں اور علاقے میں بطور منصف ہمدرد صلح کن ہونے کے باعث معروف و مشہور تھے۔جس کے باعث نہ صرف آپ کے گاؤں بلکہ علاقہ کے لوگ بلا امتیاز اپنے باہمی تنازعات کے تصفیہ کے لیے آپ کے پاس حاضر ہوا کرتے تھے۔آپ انتہائی ہمدردانہ اور منصفانہ انداز میں ان کے معاملے نپٹانے کی ہر ممکن کوشش فرماتے۔آپ ہمیشہ مفلس نادار افراد کی خوشی و غمی میں حاضر ہوتے اور حتی المقدور مالی اعانت بھی کرتے۔ایسے ہی مستحق اور مفلس طلباء کی جماعتی ذرائع کے علاوہ ذاتی جیب سے بھی امداد کی تو فیق پاتے۔لسکانی قبیلہ کے لوگ بجا طور پر آپ کو اپنا ہمدرد وسردار سلیم کرتے اور ہرا ہم مسئلہ میں ان سے رہنمائی کے طالب ہوتے۔مظلوموں کی امداد کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ان کے مقابل پر جابر طاقتور پارٹی یا شخصیت کے سامنے جرات سے عدل و انصاف کے تقاضوں کی تکمیل فرماتے۔نا قابل فراموش غیرت ایمانی ڈیرہ غازی خان کے سٹی تھانہ میں مخالفین نے شکایت کی کہ ماسٹر خان محمد تبلیغ سے باز نہیں آتا۔مسلسل آرڈنینس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کلمہ طیبہ قرآنی “ 178 آیات بیت الذکر میں بار بار لکھوا دیتا ہے۔اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جاوے۔تھانہ میں ان کا شاگر د تھا اس نے پرچہ درج کرنے کی بجائے کوشش کی کہ فریقین کو بلا کر افہام و تفہیم سے معاملہ رفع دفع کروا دیا جائے۔چنانچہ متعلقہ افسر نے علیحدگی میں آپ سے بات کی آپ مدعیان کے سامنے آئندہ محتاط رہنے کا معذرت کے رنگ میں وعدہ کر لیں تا کہ ہمیں آپ کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنا پڑے۔اس پر آپ نے قول سدید سے کام لیتے ہوئے فرمایا کہ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ہے لیکن اگر مدعی اور آپ یہ چاہتے ہیں کہ کلمہ طیبہ سے الگ ہونے کا وعدہ کروں تو یہ نا ممکن ہے یہ ناممکن ہے۔اس پر آپ کے خلاف پرچہ چاک ہوا۔پرچہ میں مخالفین نے لکھا کہ۔۔۔۔اس نام نہاد عبادت گاہ کا متولی مسمی خان محمد امیر جماعت قادیانی ہے۔مسمی خان محمد کے خلاف قبل ازیں بھی پرچے ہیں لہذا استدعا ہے کہ ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جاوے۔جماعتی خدمات مکرم ماسٹر خان محمد صاحب کو خدا تعالیٰ نے شروع ہی سے جماعتی خدمات کی تو فیق عطا کر رکھی تھی۔سب سے پہلے بحیثیت قائد مجلس خدام الاحمدیہ پھر صدر جماعت، نائب امیر اور آخر میں لمبا عرصہ بطور امیر جماعت احمد یہ ضلع خدمات کا سلسلہ کا اعزاز حاصل رہا۔یہ آپ کے اخلاص اور اعلیٰ تربیت کا ہی ثمر ہے کہ خدمت کا سلسلہ مکرم ماسٹر صاحب کی ذات تک محدود نہیں رہا بلکہ ان کے سبھی افراد خانہ ہمہ وقت خدمت دین میں مصروف رہے۔1۔آپ کی اہلیہ محترمہ کو پہلے صدر لجنہ شہر اور پھر صدر لجنہ ضلع ڈیرہ غازی خان