یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 101 of 137

یادوں کے نقوش — Page 101

“ 169 “ 170 محترم ماسٹر خان محمد صاحب ( سابق امیر ضلع ڈیرہ غازی خان) برادرم مکرم خان محمد صاحب لسکانی بلوچ (مولوی فاضل ) محکمہ تعلیم سے وابستگی کے باعث ضلع بھر میں ماسٹر خان محمد صاحب کے نام سے موسوم و مشہور تھے۔آپ کا ذکر خیر کرنے سے قبل مناسب ہو گا کہ ان کے خاندان کا مختصر تعارف احمدیت کے حوالہ سے ہو جائے۔اس بارہ میں محترم ماسٹر صاحب اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں کہ جب سورج اور چاند کو گرہن لگا تو آپ کے دادا سردار یار محمد خان صاحب اس وقت کے پیروں اور علماء کے پاس گئے کہ گرہن لگ چکا ہے امام مہدی کب آئیں گے؟ جواب ملا کہ امام مہدی پیدا ہو چکے ہیں چالیس سال کے بعد دعوی کریں گے۔آپ کے والد صاحب کا قبول احمدیت مکرم ماسٹر صاحب کے والد صاحب مکرم سردار پیر بخش صاحب کے ذہن میں اپنے والد محترم کے حوالہ سے یہ بات نقش ہو چکی تھی کہ امام مہدی آنے والے ہیں۔لیکن لمبے عرصے تک کوئی ذریعہ ایسا میسر نہ آیا کہ امام مہدی کی آمد کے بارہ میں کوئی علم ہو سکے۔آخر کار کسی ذریعے سے 1934ء میں امام مہدی کے ظہور کا علم ہوا تو آپ اپنے مسکن و مولد گل گھوٹو ( حال احمد پور ) سے جوڈیرہ غازی خان شہر سے جنوب مشرق کی جانب 32 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع دریائے سندھ کے کنارے لسکانی بلوچوں کا مسکن ہے۔وہاں سے ملتان تک پیدل اور پھر بذریعہ ٹرین قادیان روانہ ہوئے جہاں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ کے دست مبارک پر بیعت کا شرف پایا۔کچھ ایام قادیان میں قیام کے بعد اپنے گاؤں واپس آئے۔اس کے بعد وہ کن حالات سے گزرے اس موقعہ پر اگر اس کا مختصر ذکر نہ کیا جائے تو زیر نظر مضمون تشنہ رہے گا۔قبول احمدیت کے بعد آپ کے والد صاحب کی مخالفت مکرم مولا نا عبدالرحمن صاحب مبشر اپنی کتاب ”عالمگیر برکات مامور زمانه حصہ دوم کے صفحہ نمبر 262 میں لکھتے ہیں۔سردار پیر بخش خان صاحب السکانی قبیلہ کے چیف تھے جو با کردار، ذہین ،نڈر، بہادر انسان تھے، نہ صرف اپنے علاقہ میں بلکہ دور دراز تک قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔جاذب نظر شخصیت لمباقد، جسیم ، دیانتدار پابند صوم وصلوٰۃ اور مہمان نواز تھے۔موصوف جب بیعت کر کے گھر پہنچے تو اپنے چاروں بھائیوں کو بلا کر پیغام حق دیا۔آپ کے دو چھوٹے بھائی سردار امیر محمد خان صاحب اور سردار غلام حیدرخان صاحب نے فوراً دعوت حق کو قبول کیا۔جب کہ باقی دونوں بھائیوں نے مخالفت کا طوفان کھڑا کر دیا۔جس کے نتیجہ میں قبیلہ کے متعصب لوگوں نے لاٹھیوں اور کلہاڑیوں اور تلواروں سے لڑائی شروع کر دی جس سے بستی میدان جنگ بن گئی۔اس لڑائی میں مکرم سردار پیر بخش شدید زخمی ہوئے لیکن آپ کے پائے استقلال میں رائی برابر لغزش نہ آئی۔آپ کی استقامت دیکھ کر آپ کے اہل وعیال کو خدا تعالیٰ نے جماعت میں شمولیت کی توفیق عطا فرمائی۔جب تلواروں اور کلہاڑیوں سے سردار پیر بخش صاحب کا ایمان نہ ڈگمگا یا تو