یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 118 of 137

یادوں کے نقوش — Page 118

“ 203 ماہ رمضان کی آمد سے قبل ہی کمر ہمت کس لیتیں۔طبیعت میں جوش جذبہ قابل دید ہوتا۔رمضان شریف کا چاند دیکھ کر اتنی خوشی کا اظہار کرتیں جس طرح بچے عید کا چاند دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔گزشتہ ماہ رمضان میں باقاعدگی سے نماز فجر بیت مبارک میں جا کر ادا کرتیں رہیں۔ماہ رمضان میں چار مرتبہ کلام الہی پڑھنے کی سعادت پائی۔جبکہ سال بھر میں دو دفعہ با ترجمہ کلام الہی پڑھا کرتیں۔وہ دن اس کے لئے انتہائی پریشان کن اور تکلیف دہ ہوتا جس دن بوجہ مہمان نوازی یا کثرت کا رعبادت بر وقت ادا نہ کر پاتیں۔بار بار دکھ اور افسوس کا اظہار کرتیں کہ آج میں بر وقت عبادت ادانہ کر سکی۔با امر مجبوری عبادات جمع کرنی پڑی ہیں۔رات کو اگر بارہ بجے بھی سوتی تو صبح ہر حالت میں آخر شب کی عبادت کے لئے بیدار ہو جاتیں۔اس کی شب خیزی کا یہ عالم تھا کہ خاکسار کا اور بچوں کا اس کے کمرے میں سونا ناممکن تھا۔وہ اکیلی الگ کمرے میں سوتیں۔اس کے سرہانے میز پر جائے نماز اور تفسیر صغیر ہوتی۔اس کی مالی قربانی کا یہ عالم تھا کہ سال 1962ء میں وصیت کرنے کی سعادت پائی۔چندہ جات کی ادائیگی میں با قاعدہ تھیں۔تمام تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی۔ایک دن گھر آیا تو بتایا کہ میں نے آج فلاں خاص تحریک میں مبلغ پانچ صد روپے کا وعدہ لکھوایا ہے۔پاس ایک عزیزہ خاتون بیٹھی ہوئی تھیں۔وہ کہنے لگی آپا آپ سے جتنا کوئی چندہ مانگتا ہے۔آپ فوراوعدہ کر لیتی ہیں۔اس پر زوجہ نے کہا کہ سب کچھ تری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے پھر وضاحت سے خاتون کو بتایا احمدنگر میں آغاز میں ایک کمرہ میں ہم دو خاندان اکٹھے رہتے تھے۔اللہ تعالیٰ کے خاص فضل اور سلسلہ کی برکت سے دو بچے جرمنی میں ہیں۔ایک کی بجائے اللہ تعالیٰ نے دو مکان اور ضرورت کی ہر چیز عطا کر رکھی ہے۔چندہ بیج ہے۔پیج جتنا زیادہ ہو گا۔اتنا ہی پھل زیادہ ملے گا۔جس پر وہ خاتون خاموش “ 204 ہو گئی اور حقیقت بھی یہی ہے کہ وہ جوں جوں راہ مولیٰ میں خرچ کرتی چلی گئیں توں توں مالی تنگدسی فراخی میں بدلتی چلی گئی۔اور حضرت بانی سلسلہ عالیہ کے اس شعر کے مصداق اگر ہمت شود پیدا زبذل مال در راہش کے مفلس نے گردد خدا خود می شود ناصر خدا تعالیٰ حامی و ناصر ہوتا چلا گیا۔خدا تعالیٰ نے متوکل اور صابر طبیعت دے رکھی تھی۔خوشی میں ضرورت سے زیادہ خوشی اور غمی یا مشکل میں ضرورت سے زیادہ پریشان نہ ہوتیں۔عسرویسر میں راضی برضا رہنا مشکل وقت میں صدقات اور دعاؤں سے کام لینا ان کا معمول تھا۔بچوں کی تربیت میں سلسلہ سے محبت خود اعتمادی خود داری خلافت سے وابستگی کا درس نہ صرف زبانی بلکہ عملی طور پر دیتی رہتیں۔جرمنی میں اپنے بچوں کو بذریعہ خطوط وفون بطور تاکید سوال کرتیں کہ نمازیں پڑھ رہے ہو۔حضرت صاحب کے خطبات با قاعدگی سے سن رہے ہو۔چندہ دیتے ہو۔عزیزم طارق ظفر کو شعبہ صحافت سے لگاؤ ہے۔اس نے جرمنی سے فون کیا کہ اگر ممکن ہو تو روز نامہ جنگ میرے نام لگوا دیں۔میں نے حامی بھر لی فون کے بعد اس کی والدہ نے کہا روز نامہ جنگ اس کی خواہش پر روز نامہ الفضل ربوہ میری طرف سے اس کے نام لگوادیں۔چنانچہ کافی عرصہ یہ دونوں اخبار بھجواتے رہے۔بعض دفعہ مشکلات بھی پیش آتیں۔لیکن اس کی والدہ کا اصرار رہا کہ الفضل بند نہیں کروانا حتی المقدور یہ سلسلہ چلتا رہا۔جبکہ گھر میں اپنے لئے مصباح بیٹے کیلئے خالد اور خاکسار کیلئے ماہنامہ انصار اللہ لگائے رکھا۔اخبار الفضل بھی آرہا ہے۔مہمان نوازی کا تو اللہ تعالیٰ نے وافر جذ بہ عطا کر رکھا تھا۔اپنے عزیزوں کی تو ہر کوئی خدمت کرتا ہے۔اپنے ہوں یا غیر وقت ہو یا بے وقت ہمسکراتے چہرے خندہ