یادوں کے نقوش — Page 114
“ محترمہ اقبال بیگم صاحبه 195 رشتہ میں اگر چہ وہ میری خالہ تھیں لیکن اپنی بے پایاں شفقت ،صلہ رحمی کے باعث آپ کا وجود ہمارے لئے مادر مہربان سے کم نہ تھا۔آپ کی شفقت کا پہلو بھی خاندان کے لے انتہائی قابلِ تعریف اور قابلِ قدر تھا لیکن جماعتی و دینی نقطہ نگاہ سے آپ نے جو ایثار و قربانی۔اخلاص و فدائیت کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔انہوں نے تو آپ کی شخصیت کو مزید چار چاند لگا دیئے تھے جو ہمارے لئے مشعل را ساراہ ہیں۔حالات زندگی آپ 1910ء میں دھرم کوٹ رندھاوا ضلع گورداسپور میں حضرت صو بیدار میجر ڈاکٹر ظفر حسن صاحب (رفیق حضرت بانی سلسلہ ) کے ہاں پیدا ہوئیں۔آپ ڈاکٹر صاحب کی بڑی بیٹی تھیں۔آپ کی شادی مکرم شیخ محمد خورشید صاحب پسر مکرم شیخ محمد حسن صاحب صدر محلہ دار الفضل قادیان سے ہوئی۔آپ کا وجود صحیح معنوں میں نافع الناس تھا۔آپ کو اپنے ضعیف والدین اور خسر محترم کی مثالی خدمت کا شرف حاصل ہوا۔تقسیم ملک کے بعد والدین کو لاہور میں اپنے قریب رکھا ور آخری دم تک ان کی انتھک خدمت کا سلسلہ جاری رہا۔آپ کو خدا تعالیٰ نے سال 1944ء میں وصیت کی سعادت سے بھی نوازا۔چندہ وصیت کے علاوہ دیگر چندہ جات بھی ادا فرماتی رہیں۔آپ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو احسن رنگ میں نبھاتی رہیں۔خصوصاً مالی قربانی کے مواقع کی تو آپ تلاش اور جستجو میں رہتی تھیں۔حضرت امام جماعت کی طرف سے جو بھی کوئی “ تحریک پیش ہوتی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتیں۔196 امداد طلباء جامعہ کے وظائف کی مد میں کئی سالوں سے مبلغ پانچ صد روپے ماہوارا دا فرمارہی تھیں۔وفات سے کچھ عرصہ قبل اپنی کل جمع شدہ پونجی مبلغ پچاس ہزار روپے یکصد یتامیٰ فنڈ میں جماعت کو پیش کئے۔جو صدرانجمن کی ملکیت رہیں گے جبکہ ان کے منافع سے بیتامی کو وظائف ملتے رہیں گے۔ساتھ ہی مزید پچاس ہزار روپے کا وعدہ اس مد میں لکھوایا۔جس میں مبلغ 28,29 ہزار روپے جمع کر چکی تھیں۔لیکن زندگی نے وفا نہ کی۔موصوفہ کی چونکہ مزید پچاس ہزار روپے کی ادائیگی کی نیک خواہش تھی ان کی اس نیک خواہش کی تکمیل آپ کے پسماندگان نے بقیہ رقم اپنی طرف سے ڈال کر مبلغ پچاس ہزار روپے ادا کر دی ہے۔کار خیر اور نیکی کی تحریک و تلقین انتہائی حکمت عملی اور جرات سے موقع محل کے مطابق کرتیں۔بات کرنے کا ایسا ڈھنگ تھا کہ متعصب سے متعصب خواتین بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہتی تھیں۔خدمت خلق کا بڑا جذ بہ وشوق تھا۔دکھی ، مجبور ،مقروض مریضوں کی خدمت کا کوئی موقعہ حتی المقدور ہاتھ سے نہ جانے دیتیں۔آپ کی بہو عزیزہ صبیحہ اکرم صاحبہ لیڈی ڈاکٹر ہیں۔وہ جن مریضوں کے بارہ میں آکر بتاتیں کہ فلاں فلاں مریضہ انتہائی مفلس ہے جبکہ اس کی زندگی بھی خطرہ میں ہے۔ایسے مریضوں کے لئے خصوصی دعائیں کرتیں اور فرصت ملتے ہی ان کی عیادت کے لئے ہسپتال پہنچ کر عیادت کے علاوہ حسب توفیق ان کی مالی امداد بھی کرتیں۔وعدہ پیش کرتیں تا کہ دیگر بہنوں پر تحریک کا خوشگوار اثر ہو۔جماعتی کاموں کے ساتھ ساتھ محلہ کے سماجی کاموں میں بھی خوب حصہ لیتیں۔صد سالہ جلسہ قادیان میں باوجود پیرانہ سالی کے بڑی ہمت کے ساتھ شمولیت کی سعادت حاصل کی۔