یادوں کے دریچے — Page 33
33 یادوں کے دریچ تھے۔میں برآمدہ میں تھا۔میں نے ان کو او حافظ کر کے پکارا۔ابا جان نے سن لیا۔سخت غصے میں میرے پاس آئے اور ایک طمانچہ رسید کیا اور فرمانے لگے تمہیں شرم نہیں آتی قرآن کریم حفظ کرنے والے اور پھر بڑے بھائی کو تم نے اس طرح مخاطب کیا ہے۔اسی وقت پرائیویٹ سیکرٹری کے ایک کارکن کو بلا کر کہا کہ اسی وقت ہائی سکول جا کر اس کا نام وہاں سے کٹوا دو اور کل سے یہ ہائی سکول کی بجائے احمد یہ سکول میں تعلیم حاصل کرے گا۔( احمد یہ سکول جماعت کا دینی مدرسہ تھا ) بظاہر تو مجھے سزا دی گئی لیکن اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر بھی ادا کروں کم ہوگا کہ اس سزا کے پیچھے میرے لئے ایک بہت بڑی برکت چھپی ہوئی تھی۔مجھے بعد میں والدہ صاحبہ سے معلوم ہوا کہ پہلے میرے متعلق ابا جان کا ارادہ ڈاکٹری تعلیم دلوانے کا تھا۔کہاں ڈاکٹری اور کہاں خدمتِ دین کی توفیق پانا۔جب بھی اس کا خیال آتا ہے میرا دل ، سر آستانہ الہی پر شکر سے جھک جاتا ہے۔خاندان کے جو بزرگ تھے ان کی عزت و احترام میں کسی غفلت اور کوتاہی کا تو سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔صحابہ حضرت مسیح موعود ہوں یا دوسرے احمدی احباب، امیر ہوں یا غریب، غیر از جماعت ہوں یا غیر مسلم ، سب کی عزت و احترام کا خیال رکھنا ہمارے دماغوں میں کوٹ کوٹ کر بھر دیا گیا۔ہمیں یہ سبق بار بار دیا جاتا کہ ہر انسان معزز ہے خواہ امیر ہو یا غریب ،ساتھ ہی عزت نفس کو سمجھنے اور اس پر عمل کی تلقین بھی ابا جان کرتے رہے۔