یادوں کے دریچے — Page 51
یادوں کے دریچ 51 صاحب بھی تھے۔یہ دوست چھوٹی عمر سے افغانستان سے ہجرت کر کے قادیان آگئے تھے۔باوجود لمبا عرصہ قادیان میں قیام کے ان کو اردو بولنی بھی ٹھیک طرح نہ آتی تھی۔حتی کہ مذکر اور مؤنث کا فرق بھی نہ سمجھنے پائے۔( مثلاً نماز جمعہ کے بعد بعض اوقات جنازہ غائب کا اعلان جب آپ کرتے تو کہتے اب جنازہ کھڑا ہوتی ہے جب ابا جان نے ان کو کہا کہ عبدالاحد خان اب آپ کی باری ہے۔عبد الاحد خان کو جب بھی ابا جان مخاطب کرتے آپ " قربانت شوم“ کہہ کر جواب دیتے تو یہی کہہ کر انہوں نے معذرت کی کہ میں تو اس قابل نہیں مجھے منتفی کیا جائے۔ابا جان نے کہا کہ آج کوئی استثناء نہیں ہو گا آپ کو چند اشعار بنا کر سنانا ہوں گے۔انہی دنوں ضلع گورداسپور کے انگریز ڈپٹی کمشنر جو نئے تعینات ہو کر آئے تھے اور قادیان ابا جان سے ملنے بھی آئے تھے ( قادیان کے زمانہ میں جب بھی کوئی ڈپٹی کمشنر تبدیل ہوتا اور دوسرا آتا تو لازماً قادیان ابا جان کو ملنے آتا ) ان کا قد چھوٹا تھا اور جسم بھاری۔عبدالاحد خان صاحب جو ابا جان کے پہریداروں میں شامل تھے اس لئے انہوں نے بھی ان کو دیکھا ہوا تھا۔ابا جان کے مجبور کرنے پر عبد الاحد خان صاحب نے جواشعار بنا کر سنائے۔درج ذیل ہیں :۔ڈپٹی کمشنر قد آور چاہئے چاہئے مسیح موعود کا غلام در نے پہنایا ہے اس کو کوٹ پتلون اس کو تو تو پالان خر چاہئے اب ججوں نے اپنا فیصلہ سنایا کہ عبدالاحد خان صاحب اول آئے ہیں اور انعام کے مستحق۔یہ واقعہ لکھنے سے میری غرض اس امر کا اظہار ہے کہ ہمارے آقا ومطاع حضرت محمد مصطفی ﷺ پر درود و الله سلام بھیجنے والوں میں ایک فرد کی ایزادی بھی آپ کے لئے بے انتہا خوشی ومسرت کا موجب ہوتی تھی۔یہ حقیقت ہے کہ ابا جان کے شب و روز صرف اور صرف اعلائے کلمۃ اللہ اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لئے وقف تھے۔اللہ تعالٰی ، اس کے رسول حملے اور اس کے دین کے لئے بے انتہا غیرت رکھتے تھے۔چھوٹی کو تا ہی ہو یا بڑی اس کو برداشت نہ کرتے خواہ بھائی ہوں یا بہنیں ، بیویاں ہوں یا بچے یا جماعت کے احباب۔جس کی ایک مثال جو میری دید اور میری شنید ہے لکھ رہا ہوں :