یادوں کے دریچے — Page 43
43 اپنے نفس پر قابو پا کر کام کرنے کی تلقین مصر کے قیام کے دوران میں نے ابا جان کی خدمت میں خط لکھ کر یورپ جانے کی خواہش کا اظہار کیا اس خط کا جو جواب ملا اس کے متعلقہ حصص درج ذیل ہیں : 10 اگست 1938 ء عزیزم مبارک احمد سلمکم الله تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ تمہارا خط یورپ کے سفر کے متعلق ملا ہے۔اب تم کو سوچنا چاہئے کہ: 1- ایک طرف تمہارا بہت سا وقت ضائع ہو چکا ہے۔پہلے جانے میں دیر ہوگئی پھر عدن ٹھہر گئے وہاں جا کر بیمار ہو گئے۔وو 2- روپیہ اندازہ سے زیادہ خرچ ہو گیا ہے۔بے شک جوانی کی عمر میں امنگیں زیادہ ہوتی ہیں لیکن ہم بھی بوڑھے پیدا نہیں ہوئے تھے۔اسی عمر میں میں بھی مصر گیا۔ہزاروں جوانی کی خوا ہیں دیکھتا ہوا وہاں پہنچا۔راستہ میں جوش آیا کہ علم بے شک اچھی شے ہے لیکن دیار محبوب کی زیارت کو کہاں پہنچ سکتی ہے۔ارادہ کر لیا کہ حج کروں گا اور اسی سال کروں گا۔پورٹ سعید پہنچا تو رات کو خواب میں دیکھا حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں " مصر سے کل کا جہاز آخری ہے۔حج کو جانا ہے تو اس میں جاؤ“۔لوگوں نے بہت زور دیا کہ مصر آکر قاہرہ اور اسکندریہ نہ دیکھے تو اس میں زیادہ حماقت نہ ہوگی۔ابھی کئی جہاز اور جائیں گے ایک ہفتہ یہ شہر دیکھ لو۔مگر ایک نہیں سنی دوسرے دن جہاز پر سوار ہو کر حج کو روانہ ہو گیا۔بعد میں مصری حکومت کا جہاز والوں سے جھگڑا ہو گیا اور آئندہ جہاز گئے ہی نہیں۔تم تو قاہرہ ، اسکندریہ اور پورٹ سعید دیکھ آؤ گے جو دنیا کے بہترین شہروں میں شمار ہوتے ہیں۔ہم نے پورٹ سعید بھی پھر کر نہ دیکھا تھا۔اب تم اپنے نفس پر قابو پا کر اس کام کے لئے کوشش کرو جس کے لئے گئے ہو۔عربی کی مشق اور تجدید کرو کہ دین میں ترقی ہو۔والسلام خاکسار مرز امحمود احمد