یادوں کے دریچے — Page 97
یادوں کے دریچ 97 لکھا وہ آپ کی اسی تڑپ کی عکاسی کرتا ہے جو آپ کو جماعت کے ہرفرد کو اس مقام پر دیکھنے کے لئے بے چین کر رہی تھی جس کو خدا رسیدہ انسان کہا جا سکتا ہے۔خط کا متن درج ذیل ہے: اے کاش میں اپنی آنکھوں سے تم کو وہ کچھ دیکھ لوں جو میں دیکھنا چاہتا ہوں۔اے کاش تمہارا ایمان اور تمہارا یقین اور تمہارا ایثار اور تمہارے اخلاق اور تمہارا تمدن اور تمہارا علم اور تمہارے عمل اور تمہاری قربانیاں ایسی ہوں بلکہ اس سے بڑھ کر جو میں دیکھنی چاہتا ہوں۔خدا تعالیٰ تم میں ہمیشہ وہ لوگ پیدا کرتا رہے جن کے دل تمہاری خیر خواہی اور محبت کے جذبات سے پر ہوں اور جن کے افکار تمہاری بہتری کی تجاویز میں مشغول تم قیموں کی طرح کبھی نہ چھوڑے جاؤ اور سورج تم پر لاوارثی کی حالت میں کبھی نہ چڑھے۔تم خدا کے پیارے ہو اور خدا تمہارا پیارا ہو۔اے خدا تو ایسا ہی کر اور زندگی اور موت میں مجھے ایسا ہی دکھا۔آسمان کی طرف اٹھایا جانا خاکسار۔مرزا محمود احمد آخر وہ وقت بھی آ گیا جس کے خیال سے ہی ہر مخلص احمدی کے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی تھی۔ہر احمدی جو بھی مجھے آپ کے وصال کے بعد ملا کے منہ سے یہی الفاظ نکلتے تھے کہ حضرت صاحب کو سب سے زیادہ محبت مجھ سے تھی۔کتنا گہرا اور وسیع تھا محبت کا یہ سمندر کہ ہزاروں ہزار جان نثاراس محبت کے چشمہ سے عمر بھر سیراب ہوتے رہے۔ایک بات مجھے بھولتی نہیں بڑا گہرا اثر چھوڑ گئی ہے۔میں صبح کے وقت اپنے دفتر کی طرف جا رہا تھا۔سامنے سے حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال تشریف لا رہے تھے۔میں نے سلام کیا۔آگے بڑھ کر میرا ہاتھ پکڑ کر بیت المبارک کی طرف چلنے لگے۔گیٹ کے سامنے کھڑے ہو کر قصر خلافت کی طرف منہ کر کے کہنے لگے ” ایدے بعد میرے کولوں کسی ہور دا منہ نہیں دیکھیا جانا۔انہوں نے پنجابی میں جو فقرہ کہا تھا وہ میں من وعن لکھ رہا ہوں۔جو کچھ انہوں نے کہا اردو میں بھی لکھ دوں۔وہ یہ کہ اس کے بعد مجھ سے کسی اور کا منہ نہیں دیکھا جا سکے گا۔پھر مڑ کر مجھ سے کہا کہ میں ہر وقت دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان سے پہلے اٹھا لے۔مجھے کہنے لگے میاں آپ بھی میرے لئے یہی دعا کریں۔اس وقت ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ڈاکٹر نصیر احمد خان مرحوم کا ایک شعر ہر عاشق محمود کے دل کی دھڑکنوں کی آواز ہے۔یہ