یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 96 of 117

یادوں کے دریچے — Page 96

جماعت سے محبت 96 اب پھر مجھے 1924 ء کے اس سفر کی طرف لوٹنا ہے جو ویمبلے کا نفرنس لندن میں اسلام پر لیکچر دینے کے لئے آپ نے اختیار فرمایا تھا۔اس سفر نے آپ کا جماعت احمدیہ سے شدید محبت اور پیار اور جماعت احمدیہ کا آپ سے پیار اور عشق کا راز آشکار کر دیا۔غیر ممالک کے سفر پر روانگی ایک عارضی جدائی کا رنگ رکھتی تھی۔لیکن اتنی جدائی بھی آپ پر شاق آور دکھ کا باعث تھی۔آپ کو جماعت سے جو شدید محبت اور پیار تھا اس کا اظہار اس خط سے جو آپ نے مؤرخہ 24-7-22 کو عدن سے جماعت کے نام لکھا واضح ہو جاتا ہے۔اس خط کی نقل درج ہے۔آہ ! وہ اپنے دوستوں سے رخصت ہونا ان دوستوں سے جن سے مل کر میں نے عہد کیا تھا کہ اسلام کی عظمت کو دنیا میں قائم کروں گا اور خدا تعالیٰ کے نام کو روشن کروں گا۔ہاں ان دوستوں سے جن کے دل میرے دل سے اور جن کی روحیں میری روح سے اور جن کی خواہشات میری خواہشات سے اور جن کے ارادے میرے ارادوں سے متحد ہو گئے تھے کیسا اندوہناک تھا۔کیسا حسرت خیز تھا وہ دل جو اس محبت سے نا آشنا ہے جو احمدی جماعت کو مجھ سے ہے وہ اس حالت کا اندازہ نہیں کر سکتا اور کون ہے جو اس درد سے آشنا ہو جس میں ہم شریک ہیں کہ وہ اس کیفیت کو سمجھ سکے۔لوگ کہیں گے جدائی روز ہوتی ہے اور علیحدگی زمانے کے خواص میں سے ہے۔مگر کون اندھے کو سورج دکھائے اور بہرے کو آواز کی دلکشی سے آگاہ کرے۔اس نے کب للہ اور فی اللہ محبت کا مزا چکھا ہے کہ وہ اس لطف اور اس درد کو محسوس کرے۔اس نے کب اس پیالے کو پیا کہ وہ اس کی مست کر دینے والی کیفیت سے آگاہ ہو۔دنیا میں ان کے لیڈر بھی ہیں اور ان کے پیرو بھی ، عاشق بھی ہیں اور ان کے معشوق بھی اور ان کے محبوب بھی مگر ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است۔غرض کہ اس سفر نے اس پوشیدہ محبت کو جواحمدی جماعت کو مجھ سے تھی اور جو مجھے ان سے تھی نکال کر باہر کر دیا اور ہمارے چھپے ہوئے راز ظاہر ہو گئے۔اے عزیز و ! میں آپ سے دور ہوں مگر جسم دور ہے روح نہیں۔میرے جسم کا ذرہ ذرہ اور میری روح کی ہر طاقت تمہارے لئے دعا میں مشغول ہے۔مندرجہ بالا خط تو عدن سے سپر د ڈاک کیا گیا۔یورپ پہنچنے پر آپ نے جماعت کے نام جو خط