یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 95 of 117

یادوں کے دریچے — Page 95

یادوں کے دریچ 95 قسم کی غلامی کا شکار تھے۔خصوصاً ذہنی غلامی کے۔جو سب غلامیوں سے بڑھ کر دکھ اور عزت نفسی کا گلا گھونٹنے کا باعث ہوتی ہے ان کے گلے کا پھندا تھا۔حضرت مصلح الموعودؓ کے زمانہ میں ہی ان ملکوں میں آزادی کی رو چلی۔نیز حضرت مصلح الموعودؓ نے ان ممالک کے رہنے والوں کو ان چنگلوں سے آزاد کروانے کی جو کوششیں کیں ان کے نتیجہ میں یہ سب ممالک بیدار ہوئے اور ان کے لئے آزادی کی مسجیں طلوع ہوئیں اور آزاد حکومت بنانے کے قابل ہوئے۔دنیا کے مختلف ممالک میں مشرق ہو یا مغرب، شمال ہو یا جنوب ایسے مقامات ہیں جن کو زمین کا کنارہ کہا جاتا ہے۔ان سب ممالک میں احمدیت کا پیغام اور آپ کا نام پہنچا اور آپ نے زمین کے کناروں تک شہرت پائی اور قوموں نے آپ سے برکت پائی۔خدائی وعدہ میں صرف ایک مصلح موعود کا ذکر ہے جو آیا اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق وہ سب کام تکمیل تک پہنچا کر رخصت ہوا جو ان الہامی الفاظ میں ہیں کہ ” تب وہ نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا“۔یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ ہماری نئی نسل کو مصلح موعودؓ کے مقام کا بہت کم علم ہے۔حالانکہ پیشگوئی میں مذکور یہ الفاظ کہ مَظْهَرُ الْحَقِّ وَالْعَلَا كَأَنَّ اللَّهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ ، کسی مزید تشریح کے محتاج نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کا نزول تو ایسا ہے جیسے ” خدا خود آسمان سے نازل ہوا ہے۔اس کے بعد تو آپ کے مقام کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔یہ حقیقت ہے کہ حضرت مصلح موعودؓ کا زمانہ حضرت بانی سلسلہ کے زمانہ کا تسلسل ہی تھا۔خود حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے ایک الہام کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : أَنَا الْمَسِيحُ الْمَوْعُودُ وَ مَشِيلُه وخَلِیفَتُه جو کچھ خدا نے کہا وہ یہ ہے کہ مصلح الموعود کی پیشگوئی جو اس زمانہ کو انوار و برکات کے لحاظ سے ویسا ہی زمانہ ثابت کر رہی ہے جیسے کہ خود حضرت مسیح موعود کا زمانہ تھا۔میرے ہی ذریعہ پوری ہوئی ہے اور نشانات اور علامات نے بھی بتا دیا کہ یہ پیشگوئی میرے ہی ذریعہ پوری ہوئی ہے“ الفضل 17 رفروری 1944ء) 66