یادوں کے دریچے — Page 94
94 وہیں بیٹھ گئے۔شیخ صاحب نے آگے بڑھ کر عرض کیا کہ حضور میری بیعت لے لیں۔چونکہ حضرت ابا جان کو علم تھا کہ ان دونوں دوستوں کا معاہدہ ہے کہ جب بھی جائیں گے اکٹھے جائیں گے اور اگر بیعت کرنی ہوگی تو اکٹھے کریں گے۔آپ نے فرمایا شیخ صاحب آپ کا تو ملک صاحب سے معاہدہ ہے کہ اگر بیعت کی تو اکٹھے کریں گے۔اس پر شیخ عبدالرزاق صاحب نے بے ساختہ عرض کیا کہ حضور زندگی اور موت تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کون کہہ سکتا ہے کہ کب بلا وا آ جائے۔یہ دین کا معاملہ ہے اس میں تاخیر مناسب نہیں۔میں ابھی بیعت کرنا چاہتا ہوں۔فیصل آباد سے روانہ ہونے سے قبل میں نے ملک صاحب کو خط لکھ دیا ہے کہ میں تو بیعت کرنے جا رہا ہوں آگے آپ کی مرضی۔چند دنوں کے بعد ملک غلام محمد صاحب نے بھی بیعت کر لی۔بیعت کرنے کے کچھ عرصہ بعد شیخ صاحب قادیان آئے تو حضرت ابا جان نے حسب سابق اپنے ذاتی مہمان کے طور پر ٹھہرانا چاہا۔مگر شیخ صاحب نے معذرت کی کہ اب پہلے والی بات نہیں اب میں حضرت مسیح موعود کا مہمان ہوا کروں گا اور لنگر خانہ میں قیام اور وہیں کھانا کھاؤں گا۔آپ کا بہت بہت شکریہ۔اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ بیعت کے بعد شیخ صاحب کی حالت ایسی بدلی کہ پوری رات بیت المبارک میں گزارتے۔رات کا بیشتر حصہ تہجد کی نماز میں مصروف اور اس قدر رقت اور درد سے دعائیں کرتے کہ لوگ کہتے تھے کہ شیخ صاحب کے نماز میں رونے کی آوازیں گلی میں سنائی دیتی ہیں۔پیشگوئی میں مذکور الہاموں میں سے ایک کہ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکتوں سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا ہزار ہا اور لوگوں کے علاوہ شیخ صاحب کی ذات میں بھی پورا ہوا۔پیشگوئی مصلح موعود میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو یہ بشارت بھی دی کہ: جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الہی کا موجب ہوگا۔نو ر آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضا مندی کے عطر سے ممسوح کیا۔خدا کا سایہ اس کے سر پر ہو گا۔وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قو میں اس سے برکت پائیں گی یہ الہامات بھی بڑی شان سے آپ کی ذات میں پورے ہوئے۔مغربی افریقہ، مشرقی افریقہ، مشرق بعید ہندوستان وغیرہ متعدد ملکوں میں استعماری حکومتوں کے ماتحت ان ملکوں کے باشندے ہر