یادوں کے دریچے — Page 60
60 سے ناراض نہیں ہوں اور اللہ تعالیٰ سے تمہاری سلامتی کے لئے دعا کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ تم کو اپنے فرض کے ادا کرنے کی اعلیٰ توفیق بخشے اور تم کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔یہ امر یاد رکھو کہ سب سے بڑا گناہ خدا تعالیٰ کے وعدوں میں شک کرنا ہے۔لَا تَايُقَسُوا مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِنَّهُ لَا يَا يُمَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ (يوسف: 88) ہر احمدی کے دل میں یہ احساس پیدا کرو اور اپنی بشاشت اور یقین اور امید کی روح کو قائم رکھو۔آخر اللہ تعالیٰ کا وجود تو تبھی ثابت ہوتا ہے جب انسانی تدبیروں کے ختم ہونے پر اس کی مدد آتی ہے۔دوسرے وقت میں تو ہر شخص کو امید ہوتی ہے۔بلکہ کافر مومن سے بھی زیادہ پُر امید ہوتا ہے۔انتہائی خطرہ کے موقع پر ہی مومن امید اور یقین اور ایمان کا مظاہرہ کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود کے الہامات پڑھو اور پڑھاؤ اور لوگوں کو سناؤ اور ہر مجلس اور ہر پہرہ کے موقعہ پر ان کا تذکرہ کرو اور قرآن کریم کے وعدوں کا۔ہاں یہ امر بھی ذہن نشین رہنا چاہئے کہ خدا کی راہ میں موت عذاب نہیں رحمت ہے۔اگر کسی فرد کی قسمت میں شہادت کی نعمت ہے تو اسے اس یقین کے ساتھ جان دینی چاہئے کہ دین بہر حال جیتے گا اور خدا تعالیٰ اس کے بیوی بچوں اور پس ماندگان کا خود اس کی نسبت زیادہ اچھا نگران اور محافظ ہے اور یہ کہ اگلے جہان کی زندگی اس دنیا کی زندگی سے زیادہ شاندار اور اچھی ہے۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد قادیان میں قیام کے آخری دنوں میں میں بخار اور خونی پیچش سے بیمار ہو گیا۔میں نے تو ابا جان کی خدمت میں اپنی بیماری کی اطلاع نہ دی۔مجھے علم نہیں کہ کس نے میری بیماری کی اطلاع دے دی۔خطوط تو آتے جاتے ہی تھے۔ہم سب بھائی ابا جان کی خدمت میں خط لکھتے ہی تھے۔میرے نام آپ کے ایک خط سے مجھے معلوم ہوا کہ ابا جان کو میری بیماری کی اطلاع ہو گئی ہے۔اس اطلاع کے ملنے پر آپ نے میرے نام جو خط لکھا درج ہے: