یادوں کے دریچے — Page 58
58 یادوں کے در بیچے آجائیں ، ہم ان کی رہائش ، خوراک اور حفاظت کی ذمہ داری لیتے ہیں۔چنانچہ کئی ہزار مسلمان خاندان قادیان آگئے۔ان کی رہائش اور کھانے کا انتظام جماعت کے سپر د تھا اور ان کو حفاظت سے پاکستان پہنچانے کی ذمہ داری بھی امام جماعت نے اپنے ذمہ لی۔اللہ تعالیٰ کا فضل واحسان ہے کہ جو لوگ بھی قادیان سے بھجوائے گئے سب کے سب بحفاظت پاکستان پہنچے۔نیز احمدیوں کے خاندان کے افراد کو بھی پاکستان بھجوایا گیا۔یہ کام مکمل کرنے کے بعد مردوں میں سے چند سو قا دیان کی حفاظت کے لئے پیچھے چھوڑے گئے۔باقی سب مرد بھی پاکستان بھجوا دیئے گئے۔پیچھے چھوڑے جانے والوں میں ابا جان کے فیصلہ کے مطابق ہم اکثر بھائی قادیان میں مقیم رہے۔حالات دن بدن بگڑ رہے تھے۔قادیان کے جملہ محلہ جات پر غیر مسلموں نے قبضہ کر لیا۔صرف شہر کا اندرونی حصہ جس میں مسجد اقصیٰ ، مسجد مبارک اور دار مسیح، دفاتر اور قریب کے محلوں کے کچھ گھر وغیرہ تھے ہمارے قبضہ میں تھا۔ظاہر حالات تو یہ تھے کہ اس حصہ سے بھی ہمیں جبر اقتل و غارت کر کے نکالنے کی سکیم ہے۔جب حالات حد سے زیادہ بگڑ گئے اور چاروں طرف سے قادیان کا محاصرہ کر لیا گیا تو ابا جان کا خط ہم سب بھائیوں کے نام ملا۔( ان دنوں جماعت کے نام خطوط اور ہدایات ہوائی جہاز کے ذریعہ ملتی تھیں۔جماعت نے دو چھوٹے جہاز لاہور میں خریدے تھے۔ایک عزیزم سید محمود احمد اور دوسرا عزیزم میاں لطیف لاہور سے پرواز کر کے قادیان آتے او دار مسیح کے عین اوپر چھتوں کے قریب آکر CRATES جہاز سے گرا دیتے تھے اور اس طرح ہمارا تعلق پاکستان سے قائم رہا) جس میں آپ نے لکھا: جہاں تک ظاہری حالات اور ہماری معلومات کا تعلق ہے ہندوستان کی فوج کی مدد سے سکھوں کے جتھے قتل عام شروع کرنے والے ہیں۔جس کے نتیجہ میں تم سب بھی قتل کر دیئے جاؤ گے۔میں نصیحت کرتا ہوں کہ تم سب بھائی بشاشت سے اور ہنستے مسکراتے خدا کی راہ میں جان دینا۔کسی قسم کا خوف تمہارے چہروں پر بھی نہ آئے۔والسلام مرزا محمود احمد ابا جان کا یہ خط ہمارے بڑے بھائی مرزا ناصر احمد صاحب نے ہم سب کو اکٹھا کر کے پڑھ کر سنایا۔ہم سب کا رد عمل بھی ملاحظہ فرمائیے۔مجھے خوب یاد ہے کہ جب یہ خط ہم سب بھائیوں کو سنایا