یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 53 of 117

یادوں کے دریچے — Page 53

یادوں کے در یح 53 بزرگانِ سلسلہ سب تھے۔پہلے ہاف میں ہم دو گول سے ہار رہے تھے لیکن دوسرا ہاف شروع ہونے سے قبل میں نے سب ساتھیوں سے کہا کہ حضرت صاحب بھی میچ دیکھنے آئے ہیں۔مجھے تو شرم آ رہی ہے کہ مغل ٹیم ہار جائے۔غرض دوسرے ہاف میں ہم نے تین گول مخالف ٹیم پر کئے اور اس طرح ہم ایک گول سے جیت گئے۔ایک خاص بات جو میں لکھے بغیر نہیں رہ سکتا یہ تھی کہ مغل خاندانوں کے بچوں کے عزیز رشہ دار ہماری ٹیم کو شاباش دے رہے تھے اور قادیان کے باقی جملہ احباب دوسری ٹیم کو۔اس وقت ” خلیفہ یا جماعت کے دیگر افراد میں کوئی فرق نہیں سمجھا جار ہا تھا۔یہ تھا اسلامی مساوات کا حسین اظہار۔اس زمانہ میں قادیان کی ٹیمیں برصغیر ہندوستان کی بہترین ٹیموں میں شمار ہوتی تھیں۔ملک کے ایک حصہ سے دوسرے حصہ تک اخبارات قادیان کی ٹیم کے کھیل کی تعریف کرتے ( جس میں STATESMAN ، سول لینڈ ملٹری گزٹ ، ہندو مدراس شامل ہیں ) کھیلوں کے مقابلوں کے لئے متعدد مرتبہ قادیان کی ٹیمیں ٹور (Tour) پر جاتیں اور نمایاں کامیابیاں حاصل کرتیں۔ایسے ٹورز کا ایک خاص پہلو یہ بھی تھا کہ جس شہر میں بھی ہم جاتے ، دن کو تو ہم میچ کھیلتے اور رات کو جلسہ کا انعقاد کیا جاتا جس میں کھلاڑی بھی تقاریر کرتے۔لوگ بڑے متاثر ہوتے کہ یہ کس قسم کے لوگ ہیں که اگر دن کے وقت میچ کھیلتے ہیں تو رات کو مذہب اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں۔گرمیوں کے موسم میں متعدد مرتبہ نہر پر سارے دن کا ایک ٹرپ کیا جا تا تھا۔جس میں تیرا کی کے مقابلے وغیرہ ہوتے تھے اور ابا جان خودان مقابلوں میں شرکت فرماتے۔مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ ابا جان نے نہر پر ٹرپ کے موقع پر اعلان کروایا کہ آج تیرا کی کا لمبے فاصلہ کا مقابلہ ہو گا اور خود بھی اس مقابلہ میں شامل ہوئے۔مقابلہ شروع ہوا۔شرط یہ تھی کہ زمین پر پاؤں لگائے بغیر مسلسل تیرنا ہوگا۔تیرنے والے تو نہر میں تیر رہے تھے اور باقی سب احباب کنارے کنارے ساتھ چل رہے تھے۔تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد مقابلہ میں شامل احباب جھڑ نے شروع ہوئے اور آخر میں صرف ابا جان اکیلے ہی تیرنے والے رہ گئے۔مجھے یاد ہے کہ تقریباً ایک میل لگا تار تیرنے کے بعد آپ نہر سے باہر آئے۔گو یا مقابلہ میں اول پوزیشن آپ کی ہی تھی۔کئی مرتبہ اظہار فرمایا کہ کسی مسلمان کو کسی میدان میں بھی غیر مسلموں سے پیچھے نہیں رہنا چاہئے۔اپنے ایک خطبہ میں جو 29 / اپریل 1939 ء کے الفضل میں شائع شدہ ہے اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت اسماعیل شہید کا