یادوں کے دریچے — Page 52
52 اسلامی اصطلاحات پر غیرت 1929ء میں کشمیر تشریف لے گئے۔قیام کے دوران دو تین روز کے لئے ایک تفریحی مقام پر تشریف لے گئے۔خیموں میں قیام تھا۔اس جگہ سے چند میل کے فاصلہ پر ایک پہاڑ تھا جو برف سے ڈھکا ہوا تھا۔ایک دن وہاں سیر پر جانے کا پروگرام بنایا۔چند گھوڑے کرایہ پر لئے گئے تا خواتین اور بچے بھی سیر کے لئے جاسکیں۔آپ سب اہلِ خانہ کو خو د سوار کروا رہے تھے۔سب سوار ہوکر روانہ ہونا شروع ہوئے۔صرف ایک گھوڑا مع سوار کھڑا رہ گیا۔آپ نے سوار کی طرف منہ کر کے کہا کہ چلتے کیوں نہیں؟ جواب ملا کہ گھوڑا استخارہ کر رہا ہے۔یہ فقرہ سنا تھا کہ غصہ سے آپ کا منہ سُرخ ہو گیا۔گھوڑے سے فوری اُترنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے دین سے استہزاء میں برداشت نہیں کر سکتا اس لئے واپس اپنے خیمہ میں چلے جاؤ۔میں اپنے ساتھ لے جانے کے لئے تیار نہیں۔چنانچہ قافلہ کے اس فرد کو وہیں چھوڑ کر ہم سب پکنک کے لئے روانہ ہو گئے۔کئی روز تک آپ اس حرکت کے مرتکب سے ناراض رہے۔جسمانی نشو ونما کی طرف توجہ اور ورزشی مقابلہ جات جیسا کہ پہلے لکھ چکا ہوں ابا جان کو جماعت کی روحانی نشو ونما کے ساتھ ساتھ جماعت کے جملہ افراد کی جسمانی صحت اور نشوونما کی طرف بھی توجہ تھی۔چنانچہ اس غرض سے قادیان میں احمدیہ ٹورنامنٹ کا انعقا د فرمایا جو سال میں ایک مرتبہ منعقد کیا جاتا تھا۔ٹورنامنٹ کے دنوں میں خود بھی میچ دیکھنے تشریف لاتے ، انعامات دیتے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جماعت کے نوجوانوں میں کھیل کے ہر میدان میں سبقت لے جانے کا شوق اور ولولہ پیدا ہو گیا۔ایک مرتبہ آپ نے ہاکی کے ایک میچ کے لئے فیصلہ فرمایا کہ مغل ٹیم اور باقی کھلاڑیوں کی ٹیم کے درمیان میچ کھیلا جائے اور آپ خود بھی دیکھنے آئیں گے۔مجھے کیپٹن مقرر فرمایا۔بڑی مشکل سے ٹیم کے لئے گیارہ مغل لڑکوں کی تعدادمل سکی۔وہ بھی ایسی کہ ہمارے گول کیپر اور ایک ہاف بیک وہ تھے جنہوں نے کبھی ہا کی پکڑی ہی نہ تھی۔غرض سارا قادیان ہی میچ دیکھنے کے لئے موجود تھا۔حضرت ابا جان ، خاندان کے دیگر بزرگ مع