یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 1 of 117

یادوں کے دریچے — Page 1

یادوں کے دریچے بسم الله 1 الله الرحمن الرَّحِيم پیش لفظ گزشتہ سے پیوستہ برس قادیان میں جلسہ سالانہ کے بعد احمد یہ مرکزی لائبریری کی نئی شاندار عمارت دیکھ کر دل مسرور ہو گیا جہاں اپنے شوق کے مطابق کتب سیرت نسبتا زیادہ دلچسپی سے دیکھ رہا تھا کہ ایک رجسٹر نما کتاب پر نظر پڑی۔یہ قلمی مسودہ تھا سیرت و سوانح حضرت مصلح موعود مؤلفہ صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کا۔89 فل اسکیپ صفحات پر مشتمل اس تالیف کو انہوں نے یادوں کے دریچے سے موسوم کیا تھا۔سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے نہ ربوہ واپسی پر صرف اس کا نسخہ تلاش کرنے کا وعدہ کیا بلکہ از راہ ملاطفت چند ماہ میں یہ مہیا بھی کر دیا۔یہ یادیں اتنی دلچسپ اور اثر انگیز تھیں کہ چند ہی نشستوں میں پڑھ ڈالیں۔بعد مطالعہ اسے تعلیمی وتربیتی اغراض و تعمیر کی طرف سے شائع کرنے کی پر زور تحریک دل میں پیدا ہوئی۔یہی کردار کی خا خواہش مکر کی بھی تھی۔اب کی اجازت اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی منظوری کے مراحل تھے۔اس بارہ میں خاکسار نے براہ راست بھی حضور کی خدمت میں مفصل عرضداشت پیش کی اور حسب ضابطہ نظارت اشاعت میں بھی مجلس کی طرف سے اجازت کے لئے تحریر کیا۔یه تعجب ضرور تھا کہ اب تک ان نہایت مفید اور قیمتی یادوں کی اشاعت کیوں معرض التواء میں رہی۔اس کا عقدہ کتاب کے ” حرف آخر میں جا کر کھلا۔جہاں صاحبزادہ صاحب موصوف نے خود لکھا ہے کہ مجھے بوجوہ اس کو طبع کروانے میں تامل تھا کبھی سوچتا کہ شائع کرنا ضروری بھی ہے اور فرض بھی کیونکہ یہ ایک امانت ہے جو دوسروں تک پہنچانی ضرور ہے۔اس کشمکش میں دیر ہوتی چلی گئی۔اس کے بعد آپ نے اپنی اس خواب کا ذکر کیا کہ پھر ایک رات صبح کی نماز سے قبل خواب میں دارا مسیح قادیان میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو اپنے گھر سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا۔جنہوں نے آپ کو مبارک کہہ کر بلایا اور فرمایا تمہارے ابا جان تم سے بہت خوش ہیں۔مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ آنکھ کھلنے پر بھی اس کا لطف اٹھا رہا تھا اس کے بعد کسی ہچکچاہٹ کا سوال نہ رہا