یادوں کے دریچے — Page 99
99 99 حرف آخر اتنا کچھ ہی لکھ سکا تھا کہ مجھے بوجوہ اس کے طبع کروانے میں تامل تھا۔کبھی سوچتا کہ شائع کرنا ضروری بھی ہے اور میرا فرض بھی۔کیونکہ یہ ایک امانت ہے جو دوسروں تک پہنچانی ضروری ہے۔اسی کشمکش میں دیر ہوتی چلی گئی۔ابھی فیصلہ نہ کر سکا تھا کہ ایک رات صبح کی نماز سے قبل میں نے خواب میں دیکھا کہ : د میں اس چھتی ہوئی گلی میں سے گزر رہا ہوں جو دار مسیح میں داخل ہونے کے لئے ایک ڈیوڑھی جو مغربی جانب ہے اور مشرقی جانب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا رہائشی مکان اور مردانہ حصہ میں داخل ہونے کے دروازے بھی ہیں۔ڈیوڑھی میں داخل ہونے میں ابھی چند قدم کا فاصلہ ہی تھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اپنے گھر سے باہر نکلے ہیں اور مجھے مبارک“ کہہ کر ,, پکارا اور فرمایا کہ تمہارے ابا جان تم سے بہت خوش ہیں۔“ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔اس خواب سے مجھے اس قدرخوشی محسوس ہوئی کہ آنکھ کھلنے پر بھی اس کا لطف اٹھا رہا تھا۔اس کے بعد کسی ہچکچاہٹ کا سوال نہ رہا۔مرزا مبارک احمد