یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 59 of 117

یادوں کے دریچے — Page 59

66 59 جار ہا تھا تو کسی قسم کا خوف ہمارے دلوں میں یا ہمارے چہروں پر نہ تھا ، نہ کوئی گھبراہٹ یا پریشانی۔بلکہ بلا استثناء ہم سب مسکرارہے تھے اور بشاشت سے دین کی راہ میں جان دینے کے لئے تیار تھے۔اس خط کے ملنے کے چند دن بعد ہمیں ایک ذریعہ سے دشمن کے ارادوں کا پتہ چل گیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے وائرلیس کا انتظام مہیا فرما دیا تھا کہ جس کے ذریعہ سکھ جتھوں اور ہندوستانی فوج کی نقل و حرکت اور ان کے ارادوں کی اطلاع مل جاتی تھی۔اطلاع یہ ملی کہ اگلے دن رات کے پچھلے پہر ہندوستانی فوج کا ایک دستہ دار مسیح کا محاصرہ کر کے تلاشی لے گا اور ان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ جس کسی سے بھی کوئی ہتھیار نکلے اس کو وہیں گولی مار دی جائے۔تہجد کی نماز کے لئے جب ہم بیدار ہوئے تو دیکھا کہ ہمارے گھروں کی چھتوں پر ہندوستانی فوج کے سپاہی اسلحہ سے لیس متعین ہیں اور چاروں طرف گلی کو بھی محاصرہ میں لے لیا گیا ہے۔اس دستہ کا انچارج ایک میجر تھا۔نماز تہجد سے فارغ ہوکر جب گھر واپس آئے تو یہ میجر اور دوصو بیدار اور چند سپاہی جو سب مشین گنز اٹھائے ہوئے تھے گھر میں داخل ہوئے اور ہم سب کو حکم دیا کہ کمروں سے باہر آجاؤ ، تلاشی ہوگی۔اور ساتھ ہی میجر نے اعلان کیا کہ جس فرد کے پاس کوئی ہتھیار نکلا اس کو یہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا جائے گا۔جیسا کہ ذکر کر چکا ہوں ہمیں اس کی اطلاع مل چکی تھی اس لئے ہم سب کو ہمارے بڑے بھائی مرزا ناصر احمد صاحب جو قادیان میں حفاظت کے جملہ امور کے نگرانِ اعلیٰ تھے نے ہمیں ہدایت کی کہ جملہ اسلحہ نکال دیا جائے۔چنانچہ سب کمروں کی تلاشی کے بعد ہندوستانی فوجی ناکام و نامراد گئے اور ہمارے قتل کئے جانے کا کوئی بہانہ ان کو نہ مل سکا۔انہی دنوں ابا جان کا ایک خط میرے نام آیا جو میرے ایک خط کے جواب میں تھا۔جس میں میں نے شکوہ کیا تھا کہ دوسرے بھائیوں کے نام خط ملے ہیں میرے نام کوئی خط نہ تھا۔شاید آپ مجھ سے ناراض ہیں : پیارے مبارک سلمک اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ تمہارا خط ملا۔اس بات کو معلوم کر کے سخت افسوس ہوا کہ تم کو میرے خطا نہیں ملے تم کو غالباً دو خط لکھ چکا ہوں۔خدا کرے یہ خط مل جائیں تا تمہارے دل کا صدمہ دور ہو۔میں تم