یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 25 of 117

یادوں کے دریچے — Page 25

یادوں کے در یح 25 میں آپ نے قرآن کریم کی مختلف سورتوں سے وہ حصے جو اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات ، رسول کریم کا مقام اور شان اسلام کی اخلاقی اور تمدنی تعلیم پر مشتمل تھے کی تفسیر بیان فرمائی۔اور ہم میں سے جو لکھ سکتے تھے وہ نوٹس لکھتے جاتے تھے۔اسی طرف آپ نے اس خط میں اشارہ فرمایا ہے جو مصر کے سفر کے وقت مجھے دیا تھا۔جس میں آپ نے لکھا ہے کہ ” درس کے ان نوٹس سے بھی استفادہ کر سکتے ہو جو تم نے لکھے تھے، جماعت کے بہت سے احباب مجھ سے پوچھتے رہے ہیں کہ حضرت صاحب کے اوقات کا رکیا تھے۔میرا جواب یہی ہوتا تھا اور اب بھی یہی ہے کہ میں اس قابل تو نہیں کہ تفصیل سے اس بارہ میں کچھ عرض کر سکوں۔البتہ اپنے مشاہدہ کے دو واقعات عرض کر دیتا ہوں۔جب میرے سالانہ امتحان میں دو تین ماہ باقی رہتے تو میں رات کا اکثر حصہ اپنے اسباق کی دوہرائی میں صرف کرتا تھا۔عموماً رات دو بجے تک پڑھتا رہتا۔ابا جان نماز عشاء کے بعد اپنے دفتر میں تشریف لے جاتے۔میرا کمرہ ان کے دفتر کی طرف سے جانے والے راستہ کی طرف ہی تھا۔جب میں پڑھائی ختم کر کے سونے کی تیاری کرنے لگتا تو آپ کے پاؤں کی چاپ مجھے سنائی دیتی۔جس سے مجھے معلوم ہو جا تا کہ اب آپ سونے کے لئے واپس گھر کی طرف آرہے ہیں۔اس سے ظاہر ہے کہ یہ آپ کا معمول تھا۔جیسا کہ لکھ چکا ہوں کہ میں تعلیمی سال کے آخر میں ہی زیادہ توجہ سے پڑھائی کرتا تھا۔ہمارے یو نیورسٹی کے امتحان ان دنوں مارچ اپریل میں ہوتے تھے۔جنوری میں ابا جان دریائے بیاس تشریف لے جاتے اور مجھے ساتھ لے کر جاتے۔میرا مولوی فاضل کا امتحان تھا میری طبیعت میں بڑی گھبراہٹ تھی کہ یہ امتحان بڑا سخت ہوتا ہے اور پڑھائی پر میرا سارا زور سال کے آخر میں ہی ہوتا ہے۔اگر اس مرتبہ بھی ساتھ لے گئے تو میری پڑھائی کا حرج ہوگا۔مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ ابا جان نے اس مرتبہ مجھے ساتھ چلنے کا نہیں کہا۔آپ کو گئے ابھی دو روز ہی گزرے تھے کہ ایک ملازم ابا جان کا ایک خط میرے نام لے کر آیا۔کھولا تو اس میں لکھا تھا کہ ٹانگہ بھجوا رہا ہوں تم اس ملازم کے ساتھ پھیر و پیچی آجاؤ۔میری طبیعت پر یہ اس لئے گراں گزرا کہ یہ میری خاص پڑھائی کے دن تھے لیکن حکم عدولی کی ہمت کس کو تھی۔میں نے اپنے نصاب کی کچھ کتب صندوق میں بند کر کے ساتھ لیں اور روانہ ہوا۔پھیر و پیچی پہنچا، جا کر سلام کیا تو فرمانے لگے چلو تمہیں تمہارا خیمہ دکھا دوں ( بچے خیموں میں رہائش رکھتے تھے کیونکہ چھوٹا سا کچا مکان تھا جس میں ابا جان اور ہماری مائیں اور بہنیں رہائش رکھتی تھیں ) خیمہ۔