یادِ محمود ؓ — Page 67
67 ایک غیر از جماعت کے قلم سے) راقم امام جماعت احمدیہ سے ایک ملاقات کے دوران ان کے بلند اخلاق سے بہت متاثر ہوا اور ان کی بزرگانہ شخصیت کے ماتحت ان سے ایک دنیوی الجھن کے متعلق طالب دعا ہوا۔ان کی دعا سے وہ عقدہ ملا نیل سمجھ گیا۔ان کی وفات پر اس نظم میں اپنے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔(نذرحسین اور ٹی۔لالیاں) کس لئے وقف الم ہے آج ربوہ کی زمیں ناصبور و محو غم ہے آج ربوہ کی زمیں کس لئے نالہ بدم ہے آج ربوہ کی زمیں نوحہ خواں با چشم نم آج ربوہ کی زمیں ہے ہیں زبانیں دم بخود اظہار کی طاقت نہیں حکم قدرت سے مگر انکار کی طاقت نہیں ہے کہاں جو سیر روحانی کراتا تھا ہمیں اور معارف دین و دنیا کے بتاتا تھا ہمیں بہر تالیف قلوب اکثر بلاتا تھا ہمیں نصرت اسلام کے خطبے سناتا تھا ہمیں وادی ارواح میں خود آج محو سیر ہے ہر نشان زندگی جس کا نشان خیر ہے