یادِ محمود ؓ

by Other Authors

Page 34 of 132

یادِ محمود ؓ — Page 34

34 آج کیا ہے کہ تیرے تیرے دیوانے تیری بستی میں بھی میں بھی پریشاں ہیں تجھ کو جی بھر کے دیکھ بھی نہ سکے اپنی محرومیوں نالاں ہیں اعلائے دین مصطفوی وقف پیری تری شباب ترا دے خدا اجر ہے حساب تجھے ہم احساں ہے بے حساب ترا (عبدالمنان ناہید) سازِ عشرت کی صدا خاموش ہر طرف اک مہیب باند میں میں چاندنی نہیں باقی نور خورشید ہو بار خاطر ہیں دھڑکنیں دل کی جان ناشاد غم کے بوجھ سے چور جھک گئے عشق کے عزائم بھی زندگانی کی بے بسی کے حضور جاده غم زندگی مجبور تاریکی گیا آج میری آنکھ کا نور گیا مستور کیسی تنہائی تنہائی کا ہوا احساس کوئی ساتھی نہیں قریب نہ دور میرے محبوب تو نے چھوڑ دیا جاده زیست پر تنہا ہے کہ تو نہیں باقی اب کوئی میں گھومتا مگر مجھ کو ماحول کا نہیں احساس یا مرے کوئی آرزو نہیں ہوں خواہش رنگ ནི نہیں باقی باقی