یادِ محمود ؓ — Page 113
113 حیراں ہیں جام و مینا کہو کون اٹھ گیا؟ ویراں ہے طور سینا کہو کون اٹھ گیا؟ بے نور ہو گئی ہے یہ کیوں شمع زندگی مشکل ہوا ہے جینا کہو کون اٹھ گیا؟ میری انجمن کا اجالا کدھر گیا وہ راتوں کو اٹھ کے جاگنے والا کدھر گیا جس کی صدا سے غلغلہ تھا کائنات میں وہ میر کارواں وہ جیالا کدھر گیا کس نے چرا لیا ہے مرے مہر کا سنگار کس نے کیا ہے آج ستاروں کو اشکبار زخمی ہے دل نظر ہے پریشاں جگر فگار سر کو پٹک رہی ہے یہ کیوں عندلیب زار تو فخر روزگار تھا تو قلب کائنات تو قوم کا وقار تھا سرمایہ حیات یہ شام، یہ سحر، شب و روز مهر و دنیائے دوں میں ہے بھلا کس چیز کو ثبات چمکے گا تا ابد تو یہاں بن کے آفتاب یہ موت کھو سکے گی نہ کچھ تیری آب و تاب ہم کو تمہارے نقشِ کفِ پا ہیں اس طرح تاریکیوں میں جیسے نکل آئے آفتاب کرتی اللہ کا تجھ ناز یوں ربوہ کی سرزمیں ہے رہبر ہے کہ تو میرا نصیب تھا عظیم تھا تو رہنمائے دیں مقصد ترکی حیات کا کتنا عجیب تھا