یادِ محمود ؓ

by Other Authors

Page 112 of 132

یادِ محمود ؓ — Page 112

112 ہے اک ستوں اور گرا دین کے ایوانوں کا اک چراغ اور بجھا دل کے شبستانوں کا روح کے عرش کا اک اور ستارا ٹوٹا ہو گیا خون مری قوم کے ارمانوں کا پھول وہ توڑا ہے تقدیر نے گلشن سے کہ بس تصور بھی نہ آئے گا گلستانوں کا آج قرآن کا وہ ہم سے مفسر چھوٹا سلسلہ کٹ گیا افسوس ان عرفانوں کا قادیاں تیری محبت میں تجھے یاد رہے لٹ گیا قافلہ پر دیس میں کچھ جانوں کا پھر سے کو شمع خلافت کی لرز اٹھی پھر سے حافظ ہے خدا شمع کے پروانوں کا احمدیت کے لئے پھر سے قیامت آئی امتحاں پھر سے ہے مقصود مسلمانوں کا پھر فدا کاری احباب کے چرچے ہیں یہاں پھر سے اک شور ہے عشاق کے افسانوں کا پھر سے مجلس میں خلافت کی ہیں برکات یہاں بزم میں ذکر ہے محمود کے احسانوں کا میری آنکھیں ہیں کہ دریا کی طرح انڈی ہیں قابل دید ہے چھلکا میرے پیمانوں کا شوق سے اپنے خداوند کے ہاں تم جاؤ تیرا اللہ ہے حافظ تیرے مستانوں کا ہاں ترے تخت خلافت کا ہے ناصر مولیٰ ہو نگہبان خدا دیں کے نگہبانوں کا میرے محمود ذرا کاش تو دم بھر دیکھے حال احباب کا عشاق کا دیوانوں کا یوں تو غم خانے آباد رہیں گے محمود لطف کیا آئے گا بن تیرے خمستانوں کا ( محمود احمد مرزا کبیر والہ ضلع ملتان)