یادِ محمود ؓ

by Other Authors

Page 60 of 132

یادِ محمود ؓ — Page 60

60 60 آقا ترے مزار پر جاتا ہوں بار بار کہ سیل اشک سے دل کا دُھلے غبار شاید آنکھوں کے سامنے بھی ہے ہے آنکھوں سے دور بھی گویا ہے لطف ہر بات یاد آ کے ستاتی ہے اس قدر دن میرے بے قرار ہیں راتیں ہیں غم اثر ہر لمحہ دل میں رنج و بعید و حضور بھی ہے اثژدہام اکثر تصورات میں ہوتا ہوں ہم کلام تیری نگاہ جود و کرم کا وہ التفات ہے جس کی یاد چشم و دل و جاں کی کائنات ہم غم زدوں کو مل نہ سکے گی وہ عمر بھر ٹکرا کے آسمان سے لوٹ آئے گی با مراد تھا خلافت کا سلسلہ لیکن خدا کا شکر تو ہے مضبوط کر گیا ہے جو نافله ملا تھا مسیح الزمان کو پہنچا ہے وہ بفضل خدا اپنی شان کو اس کو خدا نے دی ہے خلافت کی اب قبا وہ دیں کی تمکنت ہے دلوں کا ہے آسرا و ظفر کا دور ہے اس شاہ دیں کا دور ادیان باطلہ کے بدلنے لگے بدلنے لگے ہیں طور ہر آن اس سایه پروردگار ہو اس کی ہر ایک بات تری یاد گار ہو ( غلام محمد اختر )