یادِ محمود ؓ

by Other Authors

Page 54 of 132

یادِ محمود ؓ — Page 54

54 تیرے کوچہ میں تیرے دیوانے اپنے سینوں میں لے کے درد نہاں تیرے دیدار آخری کے لئے پہنچے آنکھوں میں لے کے سیل رواں ان کے سینے تھے کس قدر چھلنی ان کے چہروں سے ہو رہا تھا عیاں وقتِ رخصت کا دل گداز سماں اپنی آنکھوں سے ہم نے دیکھا تھا جانے والے تری جدائی کا پھر بھی دل کو یقیں نہیں آتا بے سہاروں کا تو حصار رہا اور اسیروں کا رستگار رہا کے ماروں کا غمگسار رہا بے نواؤں کا شہر یار رہا بیوگان و یتیم و بے کس کا تیری شفقت پہ انحصار رہا آج سارے ہیں نوحہ خواں تجھ پر ذرہ ذرہ اداس ہے گویا جانے والے تری جدائی کا پھر بھی دل کو یقیں نہیں آتا پرو تیری عظمت کا دے رہی ہے پتہ تیری آباد کی ہوئی بستی اس کی ہر اینٹ سے ہویدا ہے تیری جرات تری اولوالعزمی پہنچے سارے به پایۂ تکمیل تیرے ذمہ تھے کام جتنے بھی یوں مقدر تھی واپسی تیری پیشگوئی میں یونہی لکھا تھا جانے والے تری جدائی کا پھر بھی دل کو یقیں نہیں آتا تیرا آنا نشان رحمت تھا تیرا جانا مگر قیامت ہے اس کی جنت میں تیرا مسکن ہو اب خدا کی یہی مشیت ہے آسمان وزمیں کے خالق سے شکوہ کرنے کی کس کو جرات ہے خوب معلوم ہے تجھے شبیر سب پر حاوی ہے مرضی مولیٰ جانے والے تری جدائی کا پھر بھی دل کو یقیں نہیں آتا ( الحاج چوہدری شبیر احمد بی اے )