یادِ محمود ؓ — Page 15
15 باطل کے دھندلکوں اک لمحہ مسلط ہر وہ جلوہ صد رشک قمر یاد رہے گا ذروں کو کیا انجم افلاک کس کو نہ ترا حسن یاد رہے گا تھی تیری مسیحا نفسی دہر میں مشہور گا اب تیری دعاؤں کا اثر یاد رہے مجلس عرفاں میں تری نکتہ نوازی وہ ہر بات تھی ناسفتہ گہر ، یاد رہے گا بھولے گی نہ خطبوں میں تری سحر نوائی گا تقریر کا وہ رنگ دگر یاد رہے شمشیر برہنہ تھا قلم کفر کے سر پر اسلام کے حق میں تھا سیر 2 سپر یاد رہے گا بیدار کیا خدمت اسلام کا جذبہ کو تو نے غم دین محمد کی لگا دی دل کو دیا جرات بیباک کا تحفہ ہر آنکھ میں امید کی اک جوت لگا دی ہر