یادِ محمود ؓ

by Other Authors

Page 14 of 132

یادِ محمود ؓ — Page 14

14 دی تو نے دین مصطفوی کو حیات نو حق تجھ سے پُر نشاط تھا باطل ملول تھا جو تیرے ساتھ تھا بنا فخر کارواں وہ جو تجھ سے کٹ گیا وہی رستے کی ڈھول تھا تو میر کارواں ہی نہیں کارواں تھا تو ہر مقصدِ حیات کا زندہ نشاں تھا تو ہر تعبیر زندگی لمحہ تیری زیست کا 6 اپنے ہر ایک کام میں یوں کامراں تھا تو تھی تیرے دم سے رونق بستان احمدی کی اک جہاں سچ تو ہے الله روح رواں تھا تو رے تیرا خدمت دین متیں کا شوق گویا که مثل تندی سیل رواں تھا تو تیری ہر ایک بات تھی لطف و کرم کی بات دنیا کے مہربانوں کا اک مہرباں تھا تو اے جانے والے تجھ درود و لحظه تیری روح کا اونچا مقام سلام ہو ہو (نسیم سیفی)