یادِ محمود ؓ — Page 124
124 تھی جن سے روشنی و وہ ستارے چلے گئے غم خوار و غمگسار ہمارے چلے گئے ٹوٹا وہ گل جو زینت باغ جہان تھا نصرت جہاں کے راج دلارے چلے گئے بیواؤں، بیکسوں کا سدا رکھتے تھے خیال بیواؤں، بیکسوں کے سہارے چلے گئے بلبل خموش، پھول پریشاں، چمن اداس گلشن کا رو۔روپ رنگ نظارے چلے گئے آنکھوں میں اشک، لب پہ دعا، دل میں درد ہے ان کی ان کو پکارے چلے گئے تربت اشکوں نے غم کی آگ لگا دی جہان میں آہوں کے آسماں پر شرارے چلے گئے چھائی ہوئی ہے عالم ہستی تیرگی روشن ہوئے جو چاند ستارے چلے گئے یاد حزیں میں آج تڑپتے ہیں سوگوار جانے کہاں وہ جان سے پیارے چلے گئے اے شمع! بجھ گئی ہے جو کر کے ہمیں گداز پروانے تیرے ہجر کے مارے چلے گئے اشکوں میں ڈھل گئی ہے متاع دل قمر ایک ایک کر کے آنکھ کے تارے چلے گئے ( صادقہ قمر ایم اے ربوہ )