یادِ محمود ؓ

by Other Authors

Page 93 of 132

یادِ محمود ؓ — Page 93

93 99 محمود که موعود پسر فضل عمر تھا مخلوق سے منہ موڑ کے خالق سے ملا ہے اسلام کی خدمت ہی میں عمر اپنی گزاری دشمن کے ہر اک وار کو سینہ پہ لیا ہے وہ جس کو سنوارا تھا خداوند نے خود ہی اس راہ میں جاں دے کے سبق ہم کو دیا ہے جو حسن میں احسان میں مہدی کا تھا ثانی ہر نور محمد کی غلامی سے لیا ہے افعال میں بے مثل تو افضال میں یکتا وہ زندہ ہے تابندہ ہے کو ہم سے جدا ہے ہر آنکھ ہے تر ہر رخ روشن ہے فسردہ یہ غم ہے کچھ ایسا کہ ہر اک غم سے سوا ہے اے موت تو بر حق ہے اہل ہے مجھے معلوم گلشن احمد کا حسیں پھول چنا ہے متلاشی نگاہوں کے تصور سے بہت دور اے جانِ بہاراں تو کہاں جا کے چھپا ہے ہر حال میں لازم ہے ہمیں شکر خدا کا محمود لیا اس نے تو ”ناصر“ بھی دیا ہے مسر قدیر ارشاد ہیڈ مسٹریس فضل عمر جونیئر ماڈل سکول ربوہ )