یادِ محمود ؓ — Page 6
حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کا کلام میں سید نا حضرت بڑے بھائی صاحب حضرت خلیفہ انتاج الثانی رضی اللہ تعالی عنہ کے خیال میں کھوئی ہوئی تھی۔گزری ہوئی یادوں نے تازہ ہو کر تصور میں آکر مجھے زمانہ ماضی میں پہنچا دیا تھا۔دل در دفراق سے بے چین و بے قرار ہو رہا تھا کہ خود بخود بغیر کسی شعر کہنے کے ارادے کے حسب ذیل مصرعہ قلب میں گزرا۔اس پر چند اشعار ہو گئے۔وو مبارک آمدن رفتن مبارک بشارت دی مسیحا کو خدا نے تمہیں پہنچے گی رحمت کی نشانی گی دلوں کو شادمانی ملے گا ایک فرزند گرامی عطا ہو بصد اکرام شاه رو جهانی وہ آیا ساتھ لے کر «فضل» آیا مٹا کر اپنی ہستی راہ حق میں جہاں کو اس نے بخشی زندگانی زندگی با کامرانی یہی مد نظر تھا ایک مقصد P برائے دین احمد جانفشانی رہی نصرت خدا کی شامل حال گزاری ہمیں داغ جدائی آج دے کر ہوا حاضر حضور واصل جو اس نے ”نور“ بھیجا تھا جہاں میں ہوا وہ جس کے قلب وروح و تن مبارک مبارک آمدن رفتن مبارک : یار جانی رت جاودانی