وِرثہ میں لڑکیوں کا حصہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 10 of 16

وِرثہ میں لڑکیوں کا حصہ — Page 10

10 سے دریافت فرمایا کہ کیا تم نے اپنے دوسرے بچوں کو بھی ایسے ہی ہدیے دیے ہیں؟ اور جب اس نے نفی میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کے ساتھ فرمایا "جاؤ میں اس ظلم کی کارروائی میں گواہ نہیں بنتا۔حالانکہ یہ ہدیہ دینے والے کی زندگی کا واقعہ تھا جب کہ وہ بعد میں اس کی تلافی بھی کر سکتا تھا مگر مرنے والے کے فعل کی تو کوئی تلافی ممکن نہیں۔دوسرے نمبر پر یہ حکومت کا مجرم بھی ہے۔کیونکہ کچھ عرصہ سے نمبر پاکستان کی حکومت نے یہ قانون پاس کر رکھا ہے کہ لڑکیوں کو ان کے والدین کے ترکہ میں سے (اور بیویوں کو ان کے خاوندوں کے ترکہ میں سے ) شریعت کے مطابق حصہ ملنا چاہئے۔اور چونکہ حکومت کے قانون کی پابندی اولی الامر کے اصول کے مطابق شریعت کی رُو سے بھی لازمی ہے اس لئے یہ گویا دوہرا مجرم بن جاتا ہے۔شریعت کا بھی اور حکومت کا بھی۔تیسرے نمبر پر یہ جماعت احمدیہ میں اپنے امام اور خلیفہ وقت کے ساتھ بدعہدی بھی قرار پاتی ہے کیونکہ چند سال ہوئے حضرت خلیفہ لمسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ کے موقع پر حاضرین جلسہ سے یہ عہد لیا تھا کہ جماعت کے لوگ شریعت کے مطابق لڑکیوں کو حصہ دیا کریں گے۔اور اس موقع پر جملہ حاضرین نے جو ہزارہا تھے کھڑے ہو کر اپنے امام کے ساتھ اور امام کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے ساتھ یہ عہد کیا تھا کہ وہ آئندہ لڑکیوں کو ضرور حصہ دیں گے۔