حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال — Page 2
جائے۔اور آپ نے اعلان کیا کہ مسلمانوں کا یہ رسمی عقیدہ کہ مسیح ناصری حضرت عیسی آخری زمانہ میں آسمان سے بجسد عنصری اتریں گے۔اس سے مراد یہ تھا کہ امت محمدیہ کا ایک فرد بسیجی صفات سے کر دُنیا میں آئے گا۔اور اس کے ذریعہ سے اسلام دنیا میں ترقی کرے گا۔اور وہ ہیں ہوں اور عیسٹی کا نفس نفیس دوبارہ دنیا میں آنا ایک امر محال ہے۔وہ تو وفات پاچکے ہیں۔آپ نے قرآن و احادیث، عقل و نقل اور اندر دئے تاریخ دلائل تحریر فرما کہ نہ صرف وفات مسیح کو ثابت فرمایا۔بلکہ حضرت مسیح کا مدفن بھی کشمیر میں ثابت کر دیا۔وفات و حیات مسیح ناصری کے عقیدہ کی اہمیت اور ضرورت مسئلہ وفات و حیات سیٹے کو دو لحاظ سے اہمیت حاصل ہے۔اول اس لئے کہ چونکہ مرزا صاحب بانی سلسلہ احمدیہ کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا ہے اس لئے جب تک پہلے مسیح کی وفات نہ ثابت کی جائے آپ کا دعوی قابل قبول نہیں ہو سکتا۔کیونکہ جس منصب کا مرزا صاحبت کا دعویٰ ہے جب تک اس کی کرسی خالی نہ ہو حضرت مرزا صاحب کی سچائی کے متعلق دل مطمئن نہیں ہو سکتا۔لہذا ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس روگ کو دور کیا جائے۔دوسرا اس لحاظ سے کہ دنیا کا بیشتر حصہ عیسائی مذہب کا پیروکار ہے اور وہ بیج ناظری کو خُدا کا بیٹا جانتے ہیں اور ان کا اعتقاد ہے کہ حضرت مسیح چند سال دنیا میں گزارنے کے بعد پھر آسمان پر واپس چلے گئے۔اور وہاں زندہ موجود ہیں اور خُدا کی خدائی میں شریک ہیں۔ادھر مسلمانوں کا حیات مسیح کا رسمی عقیدہ بھی عیسائیوں کی امداد کرتا تھا۔لہذا الوہیت مسیح کے بطلان کے لئے بھی ضروری ہے کہ مسیح کی وفات ثابت کی جائے۔ان دو وجوہ کی بناء پر ضروری ہے کہ قرآن و حدیث عقل و نقل کی رُو سے اس مسئلہ کو صاف کر کے مخلوق خدا کی ہدایت کا سامان مہیا کیا جائے اور عیسائیت کے مقابلہ میں اسلام کا بول بالا ہو۔