حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال — Page 26
۲۶ {1} یہود کہتے ہیں مسیح صلیب پر مرے تھے لہذا وہ جھوٹے تھے۔عیسائی کہتے ہیں واقعی مسیح صلیب پر کرے لیکن وہ دنیا کی نجات کے لئے کفارہ ہوئے اور وہ پیچھے تھے بلکہ خدا تھے۔عام سلمان کہتے ہیں کہ جب مسیح اصیلہ کے کرہ میں لیجائے گئے خدا نے ان کو صحیح سالم آسمان پر اُٹھالیا۔اور ایک دوسرا شخص مسیح کا ہم شکل بنایا گیا۔اور یہود نے اس کو صلیب پر مار دیا۔اور مسیح صلیب سے دو چار ہی نہیں ہوئے۔(۴) لیکن جماعت احمدیہ کا عقیدہ اند روئے قرآن یہ ہے کہ میٹھے بیشک صلیب پر ٹکائے گئے لیکن خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ سے اُن کو صلیہ سے زندہ بچالیا۔یہودی سمجھے سر مسیح مر گئے اور اُن کی لاش شاگردوں کے حوالہ کر دی گئی۔حالانکہ اس وقت ان کی حالت مفتول اور مصلوب کے مشابہ ہوگئی تھی۔شاگردان کو لے گئے اور ان کا علاج معالجہ کیا۔اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا دی۔اور پھر آپ ہجرت کر کے براستہ افغانستان کشمیر پہنچے اور ایک سو بیس سال کی عمر میں اپنی طبعی موت سے وفات پائی اور ان کی قبر کشمیر سری نگر محلہ خانیار میں موجود ہے اس کے دلائل دیکھتے ہوں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب مسیح ہندوستان میں میں ملاحظہ کیجئے۔پانچواں شعبہ :- ایک شبہ یہ کیا جاتا ہے کہ حدیثیوں میں مسیح کی آمد ثانی کے متعلق نزول کا لفظ استعمال ہوا ہے لہذا نزول تب ہی ثابت ہو سکتا ہے جبکہ مانا جائے کہ مسیح آسمان پر موجود ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ کسی صحیح حدیث میں حضرت عیسی کے متعلق آسمان یا زندہ کا لفظ ہرگزہ نہیں پایا جاتا۔بلکہ بانی جماعت احمدیہ کا یہ چیلنج دنیامیں شائع ہو چکا ہے۔کہ اگر کوئی شخص ایک بھی مرفوع - روحانی خزائن جلد ۳ ص ۳۹ :