حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال

by Other Authors

Page 14 of 31

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال — Page 14

کھایا کرتے تھے۔اور بازاروں میں پھرا کرتے تھے۔راسی طرح ایک اور آیت اس مسئلہ کا قطعی فیصلہ کرتی ہے کہ کسی نبی کا جسم بغیر کھانے کے قائم رہنے والا نہیں اور وہ یہ ہے :۔وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خلدين : (الانبیاء ع - آیت : 9) اور ہم نے ان نبیوں کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے جو کھانا نہ کھاتے ہوں، اور نہ تھے وہ ہمیشہ رہنے والے۔نویں آیت : - اللہ تعالی فرماتے ہیں :- " وَأَوْصَانِي بِالصَّلوةِ وَالزَّكَوةِ مَا دُمْتُ حَيَّا از مریم راه آیت ۳۲۶) ترجمہ :۔عیسی نے کہا۔اللہ تعالے نے تجھے تاکیدی حکم دیا ہے کہ جب تک میں زندہ رہوں نماز پڑھتا رہوں اور نہ کواۃ ادا کرتا رہوں۔استدلال :- یہ آیت فیصلہ کرتی ہے کہ اپنی زندگی کے زمانہ میں حضرت عیسائی نما نہ پڑھنے تھے اور زکواۃ بھی دیا کرتے تھے اب چونکہ وہ وفات پاچکے ہیں۔اور دارالعمل میں نہیں رہے بلکہ خدا تعالیٰ کے پاس جنت میں ہیں۔لہذا اب ان پر نہ نماز فرض ہے نہ زکواۃ۔جیسا کہ ہر انسان پر شریعیت کی تکلیف زندگی میں ہوتی ہے نہ کہ مرنے کے بعد۔دوسرا اگر وہ آسمان پر زندہ مرض کئے جائیں اور ان احکام کی پابندی ان پر اب بھی ضروری تجویز کی جائے تو ماننا پڑتا ہے کہ انکے پاس آسمان پر روپیہ بھی ہو اور زکوۃ وصول کرنے والوں کا ایک گردہ بھی موجود ہو اور یہ باتیں بالبہداہت محال ہیں۔اسی طرح اگر حضرت عیسی اب بھی آسمان پر نمانہ پڑھتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کونسی نماز پڑھتے ہیں۔اسلامی نمازہ یا اسرائیلی نماز۔اگر کہا جائے اسرائیلی تو وہ قرآن کے بعد منسوخ