حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال — Page 13
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درجہ میں بہت چھوٹا انسان یقین کرتا ہے وہ ایک لمحمد کے لئے بھی اس بات کو قبول نہیں کر سکتا کہ حضرت مسیح ناصری اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر جابیٹھے ہیں۔غیرت کی جا ہے عیسی زندہ ہو آسمان پر مدفون ہو زمیں میں شاہ جہانی ہمارا آٹھویں آیت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔رو وَمَا الْمَسِيحُ بْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُوْلُ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَاللَّهُ صِدِّيقَة كَانَا يَا كَلانِ الطَّعَامَ المائده في آيت (4) ترجمہ۔اور نہیں سیح بن مریم مگر رسول تحقیق گذر چکے پہلے اسے کئی رسُول۔اس کی ماں ایک پاک اور سچی عورت تھی۔وہ دونوں ماں بیٹا کھانا کھایا کرتے تھے۔استدلال : اس آیت سے ثابت ہے کہ مسیح اور ان کی والدہ کھانے کے محتاج تھے۔اور ان کا بادی جسم بغیر کھانے کے بہ قرار نہ رہ سکتا تھا۔اورالہ تعالی کا بطور ماضی استمراری یہ بیان کرنا کہ وہ کھانا کھایا کرتے تھے۔صاف دلالت کرتا ہے کہ اب وہ کھانے کے محتاج نہیں۔لہذا ثابت ہوا کہ اب وہ دونوں وفات پاچکے ہیں۔سوال : اگر کوئی اعتراض کرے کہ میٹی کا جسم کھانے کے بغیر ہی زندہ اور برقرار ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں محکم طور پر ہمیں یقینی خبر دی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام انبیاء کے اجسام طعام کے بغیر قائم رہنے والے نہ تھے۔چنانچہ اللہ تعالئے فرماتا ہے :۔"وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَا كُنُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ (الفرقان ع - آیت :٢١) یعنی ہم نے اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تجھ سے پہلے رسول نہیں بھیجے۔مگر وہ کھانا